کسی دیوانی تنازع میں حتمی فیصلے کا مرحلہ آنے سے بہت پہلے عدالتی تحفظ درکار ہو سکتا ہے۔ جائیداد کے انہدام یا انتقال کا خطرہ ہو سکتا ہے، کسی معاہداتی ذمہ داری کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے، یا کسی موجودہ حق میں مداخلت سے ایسا نقصان پہنچ سکتا ہے جس کا بعد میں صادر ہونے والی ڈگری مناسب تدارک نہ کر سکے۔ فریقین کے حقوق کا فیصلہ ہونے تک عارضی احکامِ امتناعی ایسے خطرات سے نمٹنے کا ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔ میرٹ پر فیصلے کے بعد جاری ہونے والے دائمی حکمِ امتناعی کے برعکس، عارضی حکمِ امتناعی ایک متعین مدت یا آئندہ حکم تک نافذ رہتا ہے، جیسا کہ قانونِ دادرسیِ مخصوص، 1877 (Specific Relief Act, 1877) کی دفعہ 53 میں تسلیم کیا گیا ہے۔
تاہم، محض دعویٰ دائر کرنے سے کوئی فریق حکمِ امتناعی کا حق دار نہیں بن جاتا۔ ضابطۂ دیوانی، 1908 («CPC») کے آرڈر XXXIX قواعد 1 اور 2 تحفظ فراہم کرنے کا عدالتی اختیار دیتے ہیں، نہ کہ خودبخود «حکمِ التوا» یا «سٹے آرڈر» حاصل کرنے کا حق۔ اس اختیار کے استعمال کے لیے عدالت کو درخواست گزار کے مقدمے، مداخلت کے باہمی متقابل نتائج اور متوقع نقصان کی نوعیت کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے Puri Terminal Ltd. v. Government of Pakistan and others (2004 SCMR 1092) میں ان تقاضوں کی دوبارہ توثیق کی۔
1. آرڈر XXXIX قواعد 1 اور 2 ضابطۂ دیوانی کا دائرۂ کار
قاعدہ 1 بنیادی طور پر املاک کے تحفظ سے متعلق ہے۔ اس کے تحت عدالت اس وقت مداخلت کر سکتی ہے جب دعوے کی متنازعہ جائیداد کے ضائع ہونے، نقصان پہنچنے، انتقال ہونے یا عمل درآمد کی کارروائی میں ناجائز فروخت کا خطرہ ہو۔ یہ قاعدہ مدعا علیہ کی جانب سے قرض خواہوں کو دھوکا دینے کی نیت سے اپنی املاک ہٹانے یا ان میں تصرف کرنے کے خطرے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ محض عمومی اندیشہ کہ مدعا علیہ اثاثے فروخت کر سکتا ہے، اس قانونی شرط کے ثابت ہونے کے برابر نہیں۔ متعلقہ دفعات ضابطۂ دیوانی کے آرڈر XXXIX میں درج ہیں۔
قاعدہ 2 معاہدے کی خلاف ورزی یا کسی دوسرے ضرر کو روکنے سے متعلق ہے، جس میں اسی معاہدے، جائیداد یا حق سے متعلق اسی نوعیت کی خلاف ورزی یا ضرر بھی شامل ہے۔ اس کا اطلاق صرف غیر منقولہ جائیداد کے تنازعات تک محدود نہیں۔ عدالت آرڈر XXXIX قاعدہ 2 ضابطۂ دیوانی کے تحت مناسب شرائط عائد کر سکتی ہے، جن میں حسابات یا ضمانت سے متعلق تقاضے بھی شامل ہیں۔
اس کے باوجود یہ دادرسی عبوری ہی رہتی ہے۔ Marghub Siddiqi v. Hamid Ahmad Khan and others (1974 SCMR 519) میں سپریم کورٹ نے اس امر کو درست نہیں سمجھا کہ ٹرائل کورٹ نے حکمِ امتناعی کی درخواست کا فیصلہ کرتے ہوئے زیرِ اعتراض قرارداد کی قانونی حیثیت کا حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔ عبوری مرحلہ دعوے کے حتمی تصفیے کا متبادل نہیں۔
2. عارضی حکمِ امتناعی کے لیے تین لازمی شرائط کا معیار
درخواست گزار کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ بادی النظر میں قابلِ تائید مقدمہ (prima facie case)، توازنِ سہولت (balance of convenience)، اور ناقابلِ تلافی نقصان یا ضرر تینوں بیک وقت موجود ہیں۔
Puri Terminal Ltd. v. Government of Pakistan and others (2004 SCMR 1092) میں سپریم کورٹ نے دوبارہ واضح کیا کہ درخواست گزار کے لیے تینوں تقاضے ثابت کرنا ضروری ہے۔ حکمِ امتناعی انصاف اور اصولِ مساوات (equity) کی معاونت کے لیے جاری کیا جاتا ہے، ناانصافی میں اضافے کے لیے نہیں۔ تینوں شرائط کا بیک وقت پورا ہونا لازم ہے؛ ایک شرط کا پورا ہونا دوسری کی عدم موجودگی کا ازالہ نہیں کرتا۔
پہلی شرط: بادی النظر میں قابلِ تائید مقدمہ
بادی النظر میں مقدمہ قائم کرنے کے لیے قانونی دعوے کی اتنی تائید ضروری ہے کہ اسے عبوری تحفظ دینے پر غور کرنے کا جواز پیدا ہو۔ درخواست گزار کو اپنے دعویٰ کردہ حق، اس کی قانونی و واقعاتی بنیاد، اور اس میں واقع ہونے والی یا متوقع مداخلت کی نشاندہی کرنا ہوتی ہے۔ کسی طرزِ عمل کو محض «غیر قانونی»، «دھوکا دہی پر مبنی» یا «بدنیتی پر مبنی» کہہ دینا یہ بنیاد فراہم نہیں کرتا۔ سندھ ہائی کورٹ نے M/s Faiz Scientific Company v. Province of Sindh and others میں اس ضروری جائزے کی وضاحت کی۔
اس مقدمے، دعویٰ نمبر 1521 سال 2020، حکم مورخہ 1 مارچ 2021، میں عدالت نے واضح کیا کہ یہ جائزہ ابتدائی نوعیت کا ہوتا ہے اور فریقین کی عرضداشتوں، حلف ناموں، جوابی حلف ناموں اور معاون دستاویزات پر مبنی ہوتا ہے۔ عدالت دیکھتی ہے کہ دستیاب مواد سے کسی قابلِ نفاذ حق اور اس کی خلاف ورزی کے بارے میں ایک معقول، قابلِ استدلال مقدمہ سامنے آتا ہے یا نہیں۔
اس طرزِ عمل سے دو متضاد غلطیوں سے بچا جاتا ہے۔ تحفظ حاصل کرنے سے پہلے درخواست گزار کو پورا دعویٰ قطعی طور پر ثابت کرنا ضروری نہیں؛ تاہم محض یہ وعدہ بھی تحفظ کے لیے کافی نہیں کہ ٹرائل میں تائیدی شہادت سامنے آ جائے گی۔ Faiz Scientific Company میں اختیار کیے گئے طریقے کے مطابق، زیرِ غور عبوری درخواست کی مناسب شہادتی بنیاد موجود ہونی چاہیے۔
دوسری شرط: توازنِ سہولت
«توازنِ سہولت» سے مراد دونوں جانب کے ممکنہ نقصان کا تقابلی جائزہ ہے۔ کیا تحفظ نہ دینے سے درخواست گزار کو، تحفظ دینے کی صورت میں جواب دہندہ کو پہنچنے والے نقصان سے زیادہ نقصان ہو گا؟ یہ جائزہ صرف درخواست گزار کے کاروباری مفادات، ترجیحات یا تکلیف تک محدود نہیں ہوتا۔
Asif Siddik Adam v. Siddiki Fund Trust and others، ہائی کورٹ اپیل نمبر 299 سال 2021، میں سندھ ہائی کورٹ نے دادرسی دینے اور انکار کرنے، دونوں کے نتائج کو تولنے کی ضرورت پر زور دیا۔ موجودہ حالت برقرار رکھنے کی ضرورت تحفظ کے حق میں جا سکتی ہے، لیکن عدالت کو دیکھنا ہوتا ہے کہ مجوزہ حکم حقیقتاً کس کے قبضے، معاہداتی حیثیت یا قائم شدہ مفادات کو محفوظ رکھے گا یا متاثر کرے گا۔ درخواست کو «حالتِ موجودہ برقرار رکھنے» یعنی «status quo» کی درخواست کہہ دینے سے یہ جائزہ غیر ضروری نہیں ہو جاتا۔
تیسری شرط: ناقابلِ تلافی نقصان یا ضرر
درخواست گزار کو محض کسی نقصان کے امکان سے بڑھ کر کچھ ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ متوقع ضرر کی مناسب تلافی ہو سکتی ہے یا نہیں، نہ کہ صرف یہ کہ اسے مالی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ Asif Siddik Adam میں سندھ ہائی کورٹ نے قابلِ تلافی نقصان اور ایسے ضرر میں واضح فرق کیا جس کے لیے معاوضہ ناکافی ہو گا۔
عام تکلیف یا دشواری لازماً اس معیار پر پوری نہیں اترتی۔ Qazi Inamul Haq v. Heavy Foundry and Forge Engineering (Pvt.) Ltd. (1989 SCMR 1855) میں سپریم کورٹ نے ایک ملازم کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے خلاف دعوے کا جائزہ لیا۔ بیان کردہ نقصانات میں آجر کی فراہم کردہ رہائش چھوڑنا اور ملازم کے بیٹے کی تعلیم میں خلل شامل تھے۔ عدالت نے ان حالات کو تکلیف یا دشواری قرار دیا، ایسا ناقابلِ تلافی نقصان نہیں جو حکمِ امتناعی کا جواز بنتا۔
لہٰذا درخواست گزار کو واضح کرنا چاہیے کہ فیصلے سے پہلے کیا وقوع پذیر ہو گا، اس کا دعویٰ کردہ حق پر کیا اثر ہو گا، اور بعد میں مالی معاوضہ اس کا مناسب ازالہ کیوں نہیں کر سکے گا۔
3. تینوں شرائط پر الگ الگ غور ضروری ہے
یہ نتیجہ نکال لینا کہ مدعی کے پاس قابلِ استدلال قانونی مقدمہ ہے، جائزہ مکمل نہیں کرتا۔ Marghub Siddiqi v. Hamid Ahmad Khan and others (1974 SCMR 519) میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے زیرِ اعتراض اقدام کے کالعدم ہونے سے متعلق اپنی رائے کو کافی سمجھ کر اور توازنِ سہولت و ناقابلِ تلافی نقصان پر غور نہ کر کے غلط طریقہ اختیار کیا۔ دعوے میں بیان کردہ شکایت کی مضبوطی باقی تقاضوں کی جگہ نہیں لے سکتی۔
چنانچہ درخواست میں ہر شرط پر الگ بات ہونی چاہیے۔ حق کی خلاف ورزی کا مواد سے تائید شدہ الزام واضح کرتا ہے کہ درخواست گزار کے پاس مقدمہ کیوں ہے؛ متقابل نقصانات کا موازنہ بتاتا ہے کہ مطلوبہ مداخلت کیوں جائز ہے؛ اور بعد کے معاوضے کی ناکافی حیثیت واضح کرتی ہے کہ فیصلے سے پہلے تحفظ کیوں درکار ہے۔ Puri Terminal میں توثیق کردہ مجموعی معیار تینوں پہلوؤں کے جائزے کا تقاضا کرتا ہے۔
نتیجہ
آرڈر XXXIX قواعد 1 اور 2 ضابطۂ دیوانی کے تحت محض فوری نوعیت کی شکایت کافی نہیں۔ مؤثر درخواست میں قابلِ نفاذ حق کی نشاندہی، متوقع خلاف ورزی کی تائید میں مواد، دونوں فریقوں پر مرتب ہونے والے نتائج، اور بعد کے معاوضے کے ناکافی ہونے کی وجوہ بیان ہونی چاہئیں۔ درخواست گزار کو اپنے خلاف جانے والے حقائق بھی ظاہر کرنے چاہئیں اور تنازع کی ضرورت سے زیادہ وسیع مداخلت نہیں مانگنی چاہیے۔
مرکزی سوال صرف یہ نہیں کہ درخواست گزار کے پاس بحث کے قابل مقدمہ ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ مقدمہ ٹرائل سے پہلے مطلوبہ صورت میں عدالتی تحفظ دینے کا جواز فراہم کرتا ہے۔
جائیداد کے تنازعات یا کارپوریٹ اور کاروباری تنازعات میں عارضی احکامِ امتناعی سے متعلق مشورے کے لیے کراچی میں لیگم لاء فرم سے رابطہ کریں تاکہ قابلِ اطلاق قانون، دستیاب شہادت اور موزوں دادرسی پر بات کی جا سکے۔
یہ مضمون پاکستان کے دیوانی طریقۂ کار کے بارے میں عمومی معلومات فراہم کرتا ہے۔ کسی مخصوص تنازع میں قابلِ اطلاق صوبائی ترامیم، اصل حقوق و ذمہ داریوں کے قانون، فریقین کی عرضداشتوں اور شہادت کا جائزہ ضروری ہے۔



