پاکستان میں ضمانت کی بنیادیں: قابلِ ضمانت جرائم، ممانعتی شق اور مزید تحقیق

پاکستانی عدالت میں کھلی قانون کی کتاب کے پاس انصاف کا ترازو۔

پاکستان میں ضمانت کی بنیادیں — تین حصوں میں سے حصہ 1

ضمانت کی کارروائی کا تعلق اس عرصے میں ملزم کی آزادی سے ہے جب فوجداری مقدمہ ابھی زیرِ فیصلہ ہو۔ یہ کارروائی ٹرائل کا متبادل نہیں اور ضمانت منظور ہونے کا مطلب بریت نہیں ہوتا۔ اسی طرح، محض سنگین الزام لگ جانے کی وجہ سے سزا یابی سے پہلے کی حراست کو تعزیری اقدام نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت کو متعلقہ قانونی دفعات، ملزم کو جرم سے منسلک کرنے والے مواد اور فوجداری عمل کے جائز تقاضوں کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔

اس کا بنیادی قانونی نظام ضابطۂ فوجداری، 1898 (CrPC) کی دفعات 496، 497 اور 498 میں موجود ہے۔ ان دفعات میں قابلِ ضمانت جرائم، ناقابلِ ضمانت جرائم اور گرفتاری سے پہلے تحفظ فراہم کرنے کے حالات میں فرق کیا گیا ہے۔ «ناقابلِ ضمانت» کا مطلب یہ نہیں کہ ضمانت ممنوع ہے، اور نہ ہی یہ کہ ایسے ہر مقدمے میں ضمانت محض عدالتی صوابدید کا معاملہ ہے۔ بعض بنیادیں ایسی ہیں جن کی قانونی شرائط پوری ہونے پر قابلِ نفاذ حق پیدا ہو جاتا ہے۔

قابلِ ضمانت جرائم: دفعہ 496 کے تحت ضمانت بطور حق

جب کسی ملزم کے خلاف قابلِ ضمانت جرم میں کارروائی ہو اور وہ قانون کے مطابق مطلوبہ ضمانت دینے کے لیے تیار ہو تو دفعہ 496 کے تحت اس کی رہائی لازم ہے۔ پولیس افسر یا عدالت کو رہائی سے انکار کی وہ صوابدید حاصل نہیں ہوتی جو ناقابلِ ضمانت مقدمات میں حاصل ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے Tariq Bashir and others v. The State, PLD 1995 SC 34 میں قابلِ ضمانت جرائم سے وابستہ حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے 6 مارچ 2026 کو فیصلہ شدہ Nisar Ahmed Khan v. The State, Criminal Bail Application No. S-563 of 2025 میں ان اصولوں کا اعادہ کیا۔ مبینہ واقعے کے المناک نتائج، بذاتِ خود، جرائم کی قانونی درجہ بندی پر غالب نہیں آ سکتے تھے۔

تاہم، ضمانت کو «خودکار» قرار دینا گمراہ کن ہو سکتا ہے۔ رہائی کے لیے عموماً حاضری کا مچلکہ اور مطلوبہ ضامن فراہم کرنا ہوتے ہیں۔ افسر یا عدالت بغیر ضامن کے ذاتی مچلکے پر رہائی کی اجازت دے سکتی ہے؛ یہ ایسا غیر مشروط اختیار نہیں جسے ملزم اپنی مرضی سے استعمال کر سکے۔ دفعہ 498 یہ بھی لازم کرتی ہے کہ مچلکے کی رقم حد سے زیادہ نہ ہو۔

اصل فرق شرائط پوری کرنے پر رہائی کے حق اور کسی بھی ضابطے کی پابندی کے بغیر رہائی کے درمیان ہے۔

ناقابلِ ضمانت جرائم اور ممانعتی شق

دفعہ 497(1) وہاں پابندی عائد کرتی ہے جہاں یہ یقین کرنے کی معقول وجوہ موجود ہوں کہ ملزم نے ایسا جرم کیا ہے جس کی سزا موت، عمر قید یا دس سال قید ہے۔ اسے عموماً ممانعتی شق کہا جاتا ہے۔

دس سال کی حد کو خاص احتیاط سے سمجھنا ضروری ہے۔ جس جرم کی سزا دس سال تک ہو سکتی ہو، وہ محض اس وجہ سے اس شق سے باہر نہیں ہو جاتا کہ سزا دس سال سے زیادہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، سندھ ہائی کورٹ نے Muhammad Daud and others v. The State, Criminal Bail Application No. S-597 of 2026 میں تعزیراتِ پاکستان، 1860 (PPC) کی دفعہ 324، جس کی سزا دس سال تک ہو سکتی ہے، کو صراحت کے ساتھ ممانعتی شق کے اندر قرار دیا۔

اس لیے دو سوال الگ رکھنا ضروری ہیں: متعلقہ جرم کی قانونی سزا کیا ہے، اور اس مخصوص ملزم کو اس جرم کے ارتکاب سے منسلک کرنے والا مواد کیا ہے؟ سنگین سزا پہلے سوال کا جواب دیتی ہے، لیکن دوسرے سوال کی ضرورت ختم نہیں کرتی۔

ممانعتی شق سے باہر جرائم: ضمانت قاعدہ ہے

ممانعتی شق سے باہر آنے والے ناقابلِ ضمانت جرائم میں مسلمہ اصول یہ ہے کہ ضمانت کی منظوری قاعدہ اور انکار استثنا ہے۔ یہ اصول Tariq Bashir میں وضع کیا گیا اور Muhammad Tanveer v. The State, PLD 2017 SC 733 میں اس کی مؤکد توثیق کی گئی۔

اس سے جرم دفعہ 496 کے تحت قابلِ ضمانت نہیں بن جاتا (دیکھیے Imtiaz Ahmed and another v. The State, PLD 1997 SC 545)۔ بلکہ یہ اصول دفعہ 497 کے تحت عدالتی صوابدید کے درست استعمال کو منضبط کرتا ہے۔ رہائی کے حق میں عمومی قاعدے سے انحراف کے لیے عدالت کو قانوناً قابلِ قبول وجہ کی نشاندہی کرنا ہوتی ہے۔

Muhammad Imran v. The State, PLD 2021 SC 903 میں سپریم کورٹ نے ایسے حالات کی نشاندہی کی جو انکار کا جواز بن سکتے ہیں، مثلاً مواد سے ظاہر ہونے والا یہ امکان کہ ملزم مفرور ہو جائے گا، شواہد یا گواہوں پر اثرانداز ہوگا، یا جرم دہرائے گا۔ استغاثہ کو ان خدشات کی تائید ریکارڈ پر موجود مواد سے کرنا ہوتی ہے۔ محض رسمی طور پر یہ کہہ دینا کہ ملزم «فرار ہو سکتا ہے» یا «گواہوں کو متاثر کر سکتا ہے»، اس جائزے کا متبادل نہیں۔

لہٰذا، ممانعتی شق سے باہر جرم کی ضمانت کی درخواست میں سزا کی متعلقہ دفعہ کے ساتھ اس ٹھوس خطرے کو بھی زیرِ بحث لانا چاہیے جس کی بنیاد پر رہائی کی مخالفت کی جا رہی ہو۔

معقول وجوہ: محض الزام سے بڑھ کر، حتمی فیصلے سے کم

ضمانت کے مرحلے پر عدالت عارضی اور ابتدائی جائزہ لیتی ہے، جرم ثابت ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں کرتی۔ وہ دیکھتی ہے کہ دستیاب مواد ملزم کو جرم سے منسلک کرنے کی قانوناً قابلِ قبول وجوہ فراہم کرتا ہے یا نہیں۔

Salman Mushtaq and others v. The State, 2024 SCMR 14 میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ معقول وجوہ عدالتی استدلال پر مبنی ہونی چاہییں، قیاس یا مفروضے پر نہیں۔ عدالت کو استغاثہ کے مواد کا جائزہ لینا چاہیے، لیکن متنازع شواہد کی مکمل چھان بین کے ذریعے قبل از وقت ٹرائل کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ الزام کی سنگینی، بذاتِ خود، ملزم کے خلاف مقدمے کی کسی بنیادی کمزوری کو دور نہیں کر سکتی۔

چنانچہ عملی سوال صرف یہ نہیں کہ «کیا ملزم ایف آئی آر میں نامزد ہے؟» بلکہ یہ ہے کہ جمع شدہ مواد کے ساتھ دیکھنے پر الزام مسلسل حراست کی قانونی شرط پوری کرتا ہے یا نہیں۔ ایف آئی آر سے مراد پولیس کے پاس درج ہونے والی ابتدائی اطلاعی رپورٹ (First Information Report) ہے۔

دفعہ 497(2) کے تحت مزید تحقیق: حق، رعایت نہیں

دفعہ 497(2) اس وقت لاگو ہوتی ہے جب یہ یقین کرنے کی معقول وجوہ موجود نہ ہوں کہ ملزم نے ناقابلِ ضمانت جرم کیا ہے، لیکن اس کے قصوروار ہونے کے بارے میں مزید تحقیق کی کافی بنیادیں موجود ہوں۔ جب عدالت اس نتیجے پر پہنچ جائے تو متعلقہ مچلکوں کی شرائط کے تابع، مزید تحقیق کے دوران رہائی لازم ہو جاتی ہے۔ یہ دفعہ صرف ممانعتی شق سے باہر کے جرائم تک محدود نہیں۔

«مزید تحقیق» یا further inquiry محض بے گناہی کا دعویٰ کرنے یا یہ کہنے سے ثابت نہیں ہوتی کہ ہر فوجداری مقدمے میں ٹرائل ضروری ہے۔ درخواست میں ملزم کی شمولیت، اس سے منسوب کردار یا جرم کے کسی بنیادی جزو کے بارے میں حقیقی اور اہم سوال کی نشاندہی ہونی چاہیے۔

مثلاً، 14 جولائی 2026 کو فیصلہ شدہ Zulfiqar v. The State, Criminal Bail Application No. S-64 of 2026 میں سندھ ہائی کورٹ نے مبینہ واقعے کی اطلاع دینے میں بلاوضاحت تاخیر، استغاثہ کی کہانی کے ایک اہم حصے کی تائید نہ ہونے، اور تفتیش و ٹرائل کے دوران ملزم کے طرزِ عمل کو دیکھا۔ مجموعی طور پر ان حالات نے مزید تحقیق کی بنیاد فراہم کی۔ عدالت نے کسی ایک بات کو ہر مقدمے میں ضمانت کا لازمی نسخہ نہیں بنایا۔

ایک اور مثال Naeem Sajid and others v. The State, 2025 SCMR 129 ہے۔ سپریم کورٹ نے اکثریتی فیصلے سے ضمانت منظور کی، کیونکہ واقعے کے متضاد بیانات اور ہر ملزم کے کردار کا مزید جائزہ ضروری تھا۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قتل کے الزام میں بھی تمام نامزد افراد کو یکساں طور پر برتنے کے بجائے ہر فرد کی شمولیت کا الگ جائزہ درکار ہو سکتا ہے۔

درخواست تیار کرتے وقت زیادہ مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ہر نشاندہی کردہ کمزوری کو استغاثہ کے مؤقف سے جوڑا جائے۔ کسی اہم بات کا بلاوضاحت چھوٹ جانا اس لیے اہم ہو سکتا ہے کہ وہ شناخت کو مشکوک بناتا ہو؛ طبی شہادت کا تضاد اس لیے اہم ہو سکتا ہے کہ وہ منسوب فعل سے مطابقت نہ رکھتا ہو؛ اور کوئی دستاویز اس لیے اہم ہو سکتی ہے کہ وہ کسی بنیادی واقعاتی مفروضے کو چیلنج کرتی ہو۔ معمولی تضادات جمع کرنے سے زیادہ مفید ان کی قانونی اہمیت واضح کرنا ہے۔

اصولِ یکسانیت: واقعی یکساں مقدمات کے ساتھ مساوی سلوک

جب کسی شریک ملزم کو ضمانت مل چکی ہو تو دوسرا ملزم اصولِ یکسانیت یا مساوی سلوک (parity) سے فائدہ طلب کر سکتا ہے۔ تاہم، ایک ہی ایف آئی آر میں نامزد ہونا، بذاتِ خود، استحقاق ثابت نہیں کرتا۔

Muhammad Atif v. The State, 2024 SCMR 1071 میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ شریک ملزم کو ضمانت دینے کی اصل وجوہ تقابل کا معیار فراہم کرتی ہیں۔ عدالت کو منسوب کردار، الزام کی تائید کرنے والے مواد اور پہلے حکم کی بنیادوں کا موازنہ کرنا ہوتا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے Criminal Bail Application No. 681 of 2026 میں اسی فرق کو لاگو کیا اور یکسانیت کی استدعا مسترد کر دی، کیونکہ درخواست گزاروں کے کردار اور ان کے خلاف مواد، ضمانت یافتہ شریک ملزمان سے بنیادی طور پر مختلف تھے۔

ایک فرضی تقابل دیکھیے: اگر دو ملزمان پر ایک جیسا عمومی الزام ہو اور شہادت میں ایک ہی کمزوری ہو تو ایک کی ضمانت کا حکم دوسرے کے حق میں مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔ لیکن کسی ایک ملزم کی ذاتی صورتِ حال—مثلاً اس کے معاملے میں حراست کی مقررہ قانونی مدت پوری ہونے—پر مبنی حکم یہ ثابت نہیں کرتا کہ دوسرے ملزم نے بھی وہ شرط پوری کر لی ہے۔

اس لیے اصولِ یکسانیت پر مبنی مناسب دلیل میں پہلے حکم کی وجوہ بیان ہونی چاہییں، محض اس کا آخری، احکامی حصہ منسلک کرنا کافی نہیں۔

خواتین، بیماری، کمزوری اور عمر

دفعہ 497(1) کا پہلا شرطیہ حصہ ممانعتی شق کے باوجود عورت، سولہ سال سے کم عمر شخص یا بیمار یا ناتواں شخص کی رہائی کی الگ اجازت دیتا ہے۔ خواتین کے بارے میں سپریم کورٹ نے Tahira Batool v. The State, PLD 2022 SC 764 میں قرار دیا کہ جرم کا زمرہ خواہ کچھ بھی ہو، اس شرطیہ حصے کے تحت ضمانت قاعدہ اور انکار استثنا ہے، الا یہ کہ ٹھوس مواد سے مفرور ہونے، شواہد میں ردوبدل یا جرم دہرانے جیسا کوئی خطرہ ظاہر ہو۔ محض اس وجہ سے ان بنیادوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ مبینہ جرم کی سزا سنگین ہے۔

سولہ سال کے ذکر کو نابالغ ملزمان کے وسیع تر قانونی نظام کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ نابالغوں کے نظامِ انصاف کا قانون، 2018 (Juvenile Justice System Act, 2018) بچے کی تعریف اٹھارہ سال سے کم عمر کے حوالے سے کرتا ہے اور ضمانت کی الگ دفعات رکھتا ہے۔ اس لیے نابالغ کی درخواست میں صرف دفعہ 497 پر انحصار کرنے کے بجائے اس قانون کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔

نتیجہ

مؤثر ضمانت کی درخواست درست قانونی بنیاد کی شناخت سے شروع ہوتی ہے: قابلِ ضمانت جرم، ممانعتی شق سے باہر جرم، مزید تحقیق، یکساں حیثیت رکھنے والے شریک ملزم کی ضمانت، یا کوئی مخصوص قانونی استثنا۔ ان بنیادوں کو الگ الگ بیان کرنا اور متعلقہ ریکارڈ سے ثابت کرنا چاہیے، نہ کہ انہیں بے گناہی کے ایک عمومی دعوے میں ضم کر دیا جائے۔

اس سلسلے کے دوسرے مضمون میں ٹرائل کے اختتام میں تاخیر سے پیدا ہونے والے الگ قانونی حق کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ضمانت کی درخواستوں اور فوجداری مقدمات میں نمائندگی کے لیے کراچی اور پاکستان بھر میں لیگم لاء فرم کی فوجداری قانونی خدمات ملاحظہ کیجیے۔

یہ مضمون پاکستان کے ضابطۂ فوجداری کے عمومی نظام کی وضاحت کرتا ہے۔ خصوصی قوانین، صوبائی ترامیم اور نابالغ ملزمان کا الگ قانونی نظام مختلف تجزیے کے متقاضی ہو سکتے ہیں۔ یہ عمومی قانونی معلومات ہیں، کسی انفرادی مقدمے کے لیے قانونی مشورہ نہیں۔

تازہ ترین مضامین