پاکستان میں ضابطۂ دیوانی کا آرڈر VII قاعدہ 11: عرضیِ دعویٰ مسترد کرنے کا دائرۂ کار، بنیادیں اور حدود

عرضیِ دعویٰ اور عدالت کی دہلیز آرڈر VII قاعدہ 11 CPC کے تحت عدالتی جانچ کی عکاسی کرتے ہیں۔

ضابطۂ دیوانی، 1908 کے آرڈر VII قاعدہ 11 (CPC) کے تحت دیوانی عدالت مکمل سماعت اور شہادت کے مرحلے سے گزارے بغیر عرضیِ دعویٰ مسترد کر سکتی ہے۔ اس اختیار کا اہم مقصد یہ ہے کہ مدعا علیہ کو ایسی کارروائی کا دفاع کرنے پر مجبور نہ کیا جائے جو قانوناً قابلِ سماعت ہی نہ ہو، اور عدالتی وقت ایسی مقدمہ بازی پر صرف نہ ہو جس سے قانوناً قابلِ نفاذ داد رسی حاصل نہیں ہو سکتی۔ سپریم کورٹ نے Pakistan Agricultural Storage and Services Corporation Ltd. v. Mian Abdul Lateef and others (PLD 2008 SC 371) میں اس حفاظتی مقصد کی وضاحت کی۔

تاہم، یہ اختیار ہر ایسے دعوے کو خارج کرنے کا عام اجازت نامہ نہیں جو کمزور، مشکوک یا ثابت کرنا مشکل معلوم ہو۔ بنیادی فرق ایسی عرضیِ دعویٰ میں ہے جس سے قانوناً قابلِ سماعت دعویٰ ظاہر نہ ہوتا ہو، اور ایسے دعوے میں جو شہادت کے بعد بالآخر ناکام ہو سکتا ہو۔ Al Meezan Investment Management Company Ltd. and others v. WAPDA First Sukuk Company Ltd. and others (PLD 2017 SC 1) میں سپریم کورٹ نے دعوے کی کامیابی کے امکان اور عرضیِ دعویٰ مسترد کیے جانے کے سوال کو الگ قرار دیا۔

آرڈر VII قاعدہ 11 کے تحت اعتراض درست طور پر اٹھانے یا اس کی مخالفت کرنے کے لیے اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہاں عرضیِ دعویٰ سے مراد مدعی کی وہ ابتدائی تحریری عرضداشت ہے جس کے ذریعے دعویٰ دائر ہوتا ہے؛ اس کا مسترد ہونا، مقدمے کے حقائق و قانونی استحقاق کا فیصلہ کرنے کے بعد دعویٰ خارج ہونے سے مختلف ہے۔

عرضیِ دعویٰ مسترد کرنے کی چار صریح بنیادیں

آرڈر VII قاعدہ 11 کے معروف، چار شقوں پر مشتمل متن میں درج ذیل صورتوں میں عرضیِ دعویٰ مسترد کرنے کی گنجائش ہے:

آرڈر VII قاعدہ 11 CPC کے تحت بنیادیں
شق بنیاد
(a) عرضیِ دعویٰ سے سببِ دعویٰ ظاہر نہ ہوتا ہو۔
(b) مطلوبہ داد رسی کی مالیت کم ظاہر کی گئی ہو، اور عدالت کے حکم پر مقررہ مدت میں مدعی اس مالیت کو درست نہ کرے۔
(c) مطلوبہ داد رسی کی مالیت درست ظاہر کی گئی ہو، مگر عرضیِ دعویٰ پر عدالتی فیس کے ٹکٹ ناکافی ہوں، اور عدالت کے حکم پر مقررہ مدت میں مدعی یہ کمی پوری نہ کرے۔
(d) عرضیِ دعویٰ کے مندرجات سے دعویٰ کسی قانون کے تحت ممنوع یا ناقابلِ سماعت نظر آتا ہو۔

ان بنیادوں کو ان کی شرائط سمیت پڑھنا ضروری ہے، محض ان کے عنوانات کافی نہیں۔ خصوصاً شقوں (b) اور (c) میں مسترد کرنے سے پہلے عدالتی ہدایت اور اس کی تعمیل کا موقع دینا لازم ہے۔ صوبائی ترامیم بھی دیکھنی چاہییں، کیونکہ پورے پاکستان میں طریقۂ کار یکساں نہیں۔ لیگم کے قانونی وسائل میں ضابطۂ دیوانی کا متن ملاحظہ کریں۔

سببِ دعویٰ کا ظاہر نہ ہونا اور شہادت کی کمزوری الگ باتیں ہیں

سببِ دعویٰ ان بنیادی حقائق پر مشتمل ہوتا ہے جو ثابت ہو جائیں تو مدعی کو مدعا علیہ کے خلاف داد رسی طلب کرنے کا حق ملتا ہے۔ عرضیِ دعویٰ میں متعلقہ حق یا ذمہ داری، مدعا علیہ کی جانب سے اس کی مبینہ خلاف ورزی، اور مطلوبہ داد رسی کی واقعاتی بنیاد ظاہر ہونی چاہیے۔ محض «غیر قانونی»، «دھوکا دہی پر مبنی» یا «بلا قانونی اختیار» جیسے الفاظ استعمال کرنا، ایسے قابلِ داد رسی معاملے کے حقائق بیان کرنے کا متبادل نہیں۔ سببِ دعویٰ اور قابلِ سماعت ہونے کے بارے میں سندھ ہائی کورٹ کی بحث ملاحظہ کریں۔

رقم کی وصولی کے ایک فرضی دعوے کو دیکھیے۔ مدعی ایک معاہدہ، اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی، واجب الادا رقم اور مدعا علیہ کی عدم ادائیگی بیان کرتا ہے۔ مدعا علیہ جواب دیتا ہے کہ معاہدے پر کبھی دستخط ہی نہیں ہوئے، یا رقم پہلے ہی ادا کر دی گئی ہے۔ عموماً ان مؤقفوں سے واقعاتی تنازع پیدا ہوتا ہے؛ محض ان کے بیان کرنے سے یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ عرضیِ دعویٰ میں کوئی سببِ دعویٰ ظاہر نہیں ہوتا۔

لہٰذا Al Meezan میں واضح کیا گیا فرق اصولی ہونے کے ساتھ عملی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ مدعی ایسا دعویٰ پیش کر سکتا ہے جو عدالتی فیصلے کا متقاضی ہو، لیکن بعد میں معاہدے کی تنفیذ، مال کی ترسیل یا بقایا رقم ثابت نہ کر سکے۔ اس حتمی ناکامی کا مطلب یہ نہیں کہ عرضیِ دعویٰ لازماً ابتدا ہی میں مسترد کر دینی چاہیے تھی۔ PLD 2017 SC 1 سے متعلق بحث ملاحظہ کریں۔

عدالت کا کام پیش کردہ دعوے کی قانونی کفایت جانچنا ہے، یہ پیش گوئی کرنا نہیں کہ کس فریق کے گواہ زیادہ قابلِ اعتبار ہوں گے۔

عدالت کن مواد کو زیرِ غور لا سکتی ہے؟

عرضیِ دعویٰ کو اولیت حاصل ہے، مگر غور صرف اسی تک محدود ہونا ضروری نہیں

ابتدائی نقطہ عرضیِ دعویٰ ہے، جسے بامعنی انداز میں اور مجموعی طور پر پڑھا جاتا ہے۔ اس کے واقعاتی بیانات، دستاویزات اور استدعاؤں کو باہم ملا کر سمجھنا چاہیے، نہ کہ کسی جملے کو سیاق و سباق سے الگ کر کے۔

Jewan and others v. Federation of Pakistan (1994 SCMR 826) میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ مدعا علیہ کے متنازع دفاعی مؤقف عرضیِ دعویٰ مسترد کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتے۔ تاہم عرضیِ دعویٰ سے باہر ایسا مواد بھی دیکھا جا سکتا ہے جس کی صحت مدعی تسلیم کرتا ہو۔ فرق تسلیم شدہ واقعاتی صورتِ حال اور ایسے مخالف الزام میں ہے جسے ابھی ثابت کرنا باقی ہو۔

عرضیِ دعویٰ کے ساتھ منسلک دستاویزات بھی دیکھی جا سکتی ہیں، جیسا کہ Florida Builders میں سپریم کورٹ کی بحث واضح کرتی ہے۔ مدعی یہ توقع نہیں کر سکتا کہ عدالت اس کی عرضداشت تو پڑھے لیکن انہی دستاویزات کو نظر انداز کر دے جن پر وہ عرضداشت انحصار کرتی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے میں نقل کردہ سپریم کورٹ کے رہنما اصول ملاحظہ کریں۔

Florida Builders میں وضاحت

Haji Abdul Karim and others v. Messrs Florida Builders (Pvt.) Ltd. (PLD 2012 SC 247) اس موضوع پر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ عرضیِ دعویٰ کو ترجیح حاصل ہے، لیکن ضروری نہیں کہ عدالت صرف اسی کو دیکھ سکے۔ عدالت واضح طور پر باہم متناقض یا سراسر نامعقول بیانات قبول کرنے کی پابند نہیں، اور نہ ہی اسے تسلیم شدہ دستاویزات یا غیر مشکوک صورتِ حال نظر انداز کرنی چاہیے۔ بامعنی عدالتی جائزہ لینا جائز ہے۔

یہ وضاحت قبل از وقت مکمل سماعت کی اجازت نہیں دیتی۔ عدالت عرضیِ دعویٰ اور جوابِ دعویٰ کو آمنے سامنے رکھ کر ان کے متضاد واقعاتی بیانات کا موازنہ نہیں کر سکتی تاکہ طے کرے کہ کون سچ بول رہا ہے۔ اعتبار اور متنازع ثبوت کے سوالات مناسب شہادتی کارروائی میں طے ہوتے ہیں۔ چنانچہ Florida Builders دونوں انتہاؤں کو رد کرتا ہے: عرضیِ دعویٰ کے ہر بیان کو بلا تحقیق قبول کرنا، اور مدعا علیہ کے مؤقف کو قبل از وقت درست مان لینا۔ متعلقہ رہنما اصول پڑھیے۔

دعویٰ کب قانون کے تحت ممنوع ہوتا ہے؟

شق (d) کے لیے قابلِ شناخت قانونی ممانعت ضروری ہے، محض یہ الزام کافی نہیں کہ مدعی کا مقدمہ بے جواز ہے۔ حالات کے مطابق یہ ممانعت میعاد گزرنے، پہلے سے موجود پابند عدالتی فیصلے، یا ایسے قانون سے پیدا ہو سکتی ہے جو دیوانی عدالت کا اختیارِ سماعت خارج کرتا ہو۔ فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ کیا جائزۂ سماعت کی مجاز حدود میں رہتے ہوئے اس ممانعت کو درست طور پر ثابت کیا جا سکتا ہے۔ قانونی ممانعتوں کے بارے میں سندھ ہائی کورٹ کی بحث ملاحظہ کریں۔

میعاد: ظاہر قانونی رکاوٹ یا متنازع واقعاتی سوال؟

جہاں متعلقہ تاریخوں اور تسلیم شدہ حالات سے واضح ہو کہ دعویٰ میعاد سے باہر ہے، وہاں عرضیِ دعویٰ مسترد کی جا سکتی ہے۔ اس لیے یہ کہنا حد سے زیادہ وسیع ہوگا کہ میعاد کا سوال آرڈر VII قاعدہ 11 کے تحت کبھی طے ہی نہیں ہو سکتا۔

اس کے برعکس، مدعی کے خلاف متنازع حقائق فرض کر کے میعاد کا سرسری فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ مدت کے آغاز کا تعین متنازع معاملت کا علم ہونے، کسی حق سے انکار، یا کسی ذمہ داری کے قابلِ نفاذ ہونے کے حالات پر منحصر ہو سکتا ہے۔ جہاں ان امور کے لیے واقعی شہادت درکار ہو، وہاں عدالت کو انہیں قاعدہ 11 کی کارروائی میں طے نہیں کرنا چاہیے۔ حقائق پر منحصر میعاد کے سوالات سے متعلق بحث ملاحظہ کریں۔

Haji Abdul Sattar and others v. Farooq Inayat and others (2013 SCMR 1493) میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اس کے سامنے میعاد کا مسئلہ قانون اور حقائق کے مخلوط سوالات پر مشتمل تھا، اس لیے شہادت کے بغیر طے نہیں ہو سکتا تھا۔ اہم قید یہ ہے کہ میعاد اس مقدمے میں حقائق پر منحصر تھی؛ یہ فیصلہ ہر ایسے مقدمے میں عرضیِ دعویٰ مسترد کرنے سے نہیں روکتا جس میں میعاد کا اعتراض اٹھایا جائے۔

اسی طرح محض دھوکا دہی کا الزام لگانا خودبخود میعاد کی رکاوٹ دور نہیں کرتا۔ آرڈر VI قاعدہ 4 CPC کے تحت دھوکا دہی یا غلط بیانی کی متعلقہ تفصیلات تحریری دعوے میں بیان کرنا ضروری ہے۔ بعد میں علم ہونے کے مبہم دعوے ان حقائق کا متبادل نہیں جو یہ واضح کرنے کے لیے درکار ہوں کہ بظاہر تاخیر سے دائر دعویٰ اب بھی کیوں قابلِ سماعت ہے۔ ضروری تفصیلات بیان کرنے کے تقاضوں پر سندھ ہائی کورٹ کی بحث پڑھیے۔

سابقہ مقدمہ بازی اور امرِ مختومہ

اسی جائیداد سے متعلق سابقہ دعویٰ بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ ہر بعد کا دعویٰ ممنوع ہے۔ عدالت کو سابقہ فیصلے کی شناخت کرکے دیکھنا ہوگا کہ پیش کردہ قانونی ممانعت کی شرائط پوری ہوتی ہیں یا نہیں۔ ضابطۂ دیوانی کی دفعہ 11 امرِ مختومہ سے متعلق ہے۔

Muhammad Saleemullah and others v. Additional District Judge, Gujranwala and others (PLD 2005 SC 511) کے مطابق کسی واقعاتی سوال پر ثابت شدہ حقائق اور شہادت کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ امرِ مختومہ کا درجہ رکھتا ہے۔ چنانچہ یہ ممانعت شہادت پر مبنی حقیقی عدالتی فیصلے سے وابستہ ہے، متنازع حقائق کے مفروضہ تعین سے نہیں۔ سندھ ہائی کورٹ نے یہ دیکھتے ہوئے اس استدلال کو لاگو کیا کہ آیا بعد کا دعویٰ پہلے سے طے شدہ امور کو دوبارہ کھولنے کی کوشش تھا۔

جہاں متعلقہ سابقہ کارروائی اور اس کا پابند اثر ایسے مواد سے ثابت ہوں جسے قانوناً زیرِ غور لایا جا سکتا ہو، وہاں امرِ مختومہ عرضیِ دعویٰ مسترد کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ لیکن اگر اعتراض فریقین کے حقوق یا سابقہ فیصلے کے دائرۂ اثر سے متعلق متنازع مفروضوں پر مبنی ہو، تو انہیں محض فرض کر کے ثابت شدہ نہیں مانا جا سکتا۔ سابقہ کارروائی اور قانونی ممانعتوں سے متعلق بحث ملاحظہ کریں۔

خصوصی قانون کے ذریعے دیوانی اختیارِ سماعت کا اخراج

جب یہ مؤقف اختیار کیا جائے کہ کسی خصوصی قانون نے دیوانی اختیارِ سماعت خارج کر دیا ہے، تو تنازع کی نوعیت اہم ہوتی ہے۔

مثلاً Mst. Naveed v. Muzaffar Ahmed and others (Civil Revision Application No. S-18 of 2023)، جس کا فیصلہ 8 اپریل 2026 کو ہوا اور وجوہ 13 اپریل 2026 کو جاری کی گئیں، میں سندھ ہائی کورٹ نے محکمۂ مال کی انتظامی کارروائی اور حقِ ملکیت، قبضے اور ریکارڈ میں درج مالک کو متاثر کرنے والی مبینہ غیر قانونی تنسیخ کے حقیقی دیوانی تنازع میں فرق کیا۔ عدالت نے عرضیِ دعویٰ مسترد کرنے کا حکم کالعدم کرکے مقدمہ فیصلے کے لیے بحال کر دیا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ محض غیر قانونی عمل کا الزام لگا دینے سے ہر قانونی اخراج بے اثر ہو جاتا ہے۔ بلکہ عدالت کو دعویٰ کردہ حقیقی دیوانی حق، مطلوبہ داد رسی اور متعلقہ قانونی اخراج کے دائرے کو دیکھنا چاہیے۔ تنازع کو محض «ریونیو»، «انتظامی» یا کوئی ملتا جلتا نام دے کر اختیارِ سماعت کا اعتراض طے نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ پڑھیے۔

مالیت اور عدالتی فیس: اصلاح کا موقع

شقوں (b) اور (c) میں واضح تحفظ موجود ہے: عرضیِ دعویٰ اس وقت مسترد ہوتی ہے جب مقررہ مدت میں عدالت کی ہدایت کی تعمیل نہ کی جائے۔ محض ابتدائی کمی، مزید ضروری کارروائی کے بغیر، مسترد کرنے کی مکمل قانونی بنیاد نہیں بنتی۔

Siddique Khan and others v. Abdul Shakoor Khan and another (PLD 1984 SC 289) میں سپریم کورٹ نے متعلقہ تقاضوں کی سختی سے پابندی پر زور دیا۔ بعد میں Florida Builders نے واضح کیا کہ Siddique Khan میں قاعدہ 11 کو تعزیری نوعیت کی شق کہنے کا تعلق شق (c) سے تھا، جس میں ناکافی عدالتی فیس پوری کرنے کے لیے وقت دینے کی شرط بھی شامل ہے۔ یہاں «تعزیری» سے مراد منفی ضابطہ جاتی نتیجہ ہے؛ اس سے معاملہ فوجداری کارروائی نہیں بن جاتا۔ ان نظائر کی بحث ملاحظہ کریں۔

عملی نتیجہ واضح ہے: عدالت کمی کی نشاندہی کرے اور اسے دور کرنے کا مطلوبہ موقع دے۔ دوسری طرف مدعی کو اس ہدایت کو حقیقی ضابطہ جاتی ذمہ داری سمجھنا چاہیے، تعمیل ملتوی کرتے رہنے کی اجازت نہیں۔

عرضیِ دعویٰ جزوی طور پر مسترد نہیں کی جا سکتی

آرڈر VII قاعدہ 11 کا تعلق عرضیِ دعویٰ مسترد کرنے سے ہے، الگ الگ استدعاؤں کو چن کر خارج کرنے سے نہیں۔

Ahmed Ali Talpur v. Sub-Registrar Latifabad, Hyderabad and others (PLD 2025 SC 302) میں سپریم کورٹ نے دوبارہ واضح کیا کہ عرضیِ دعویٰ کو حصوں میں مسترد کرنا جائز نہیں۔ اگر کوئی قابلِ سماعت داد رسی باقی ہو تو محض دوسری استدعا کے ناقص یا ناقابلِ حصول ہونے کی وجہ سے عرضیِ دعویٰ جزوی طور پر مسترد نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ متعلقہ داد رسی طلب کرنے کا موجود اور برقرار حق ظاہر ہونا چاہیے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر استدعا بالآخر منظور ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ مقدمے کے ایک حصے کا نقص، حقیقی طور پر قابلِ سماعت دعوے کو خودبخود ختم کرنے کا جواز نہیں۔

اسی طرح محض ہرجانے، اخراجات یا کسی اور مناسب داد رسی کی روایتی استدعا شامل کر دینا کافی نہیں۔ سوال اصل استحقاق کا ہے: کیا عرضیِ دعویٰ واقعی کوئی ایسا باقی ماندہ حق ظاہر کرتی ہے جس کا عدالتی فیصلہ ہو سکتا ہو؟ جزوی اخراج کے خلاف تحفظ قابلِ سماعت دعووں کو محفوظ رکھتا ہے؛ جہاں کوئی دعویٰ موجود ہی نہ ہو، وہاں نیا دعویٰ پیدا نہیں کرتا۔ PLD 2025 SC 302 سے متعلق بحث ملاحظہ کریں۔

یہ اختیار کس مرحلے پر استعمال ہو سکتا ہے؟

یہ اختیار صرف پہلی سماعت تک محدود نہیں۔ اگر مناسب قانونی بنیاد موجود ہو تو تنقیحات مرتب ہو جانے یا شہادت شروع ہو جانے سے بذاتِ خود عرضیِ دعویٰ مسترد کرنے کا اختیار ختم نہیں ہوتا۔ کارروائی کے مرحلے سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کی بحث ملاحظہ کریں۔

Raja Ali Shan v. Messrs Essem Hotel Ltd. and others (2007 SCMR 741) میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ قاعدہ 11 کے تحت آنے والی ناقابلِ سماعت عرضیِ دعویٰ کو مسترد کرنا عدالت کی ذمہ داری ہے، خواہ کسی فریق نے درخواست نہ بھی دی ہو۔ لہٰذا مدعا علیہ کی درخواست عدالت کے اختیار کا ماخذ نہیں۔

تاہم کارروائی کا مرحلہ بدلنے سے جائزے کی نوعیت وسیع نہیں ہو جاتی۔ دیر سے اٹھایا گیا اعتراض متنازع حقائق و استحقاق کو ظاہر قانونی ممانعت کا نام دینے کا موقع نہیں۔ مزید یہ کہ آرڈر VII قاعدہ 12 CPC کے تحت عرضیِ دعویٰ مسترد کرتے وقت جج کو وجوہ درج کرنا ہوتی ہیں۔

متعلقہ ضابطہ جاتی اختیارات میں فرق ضروری ہے

عرضیِ دعویٰ مسترد کرنا اور حکمِ امتناع سے انکار ایک چیز نہیں

عارضی حکمِ امتناع کے تقاضے ثابت کرنے میں مدعی کی ناکامی لازماً یہ نہیں دکھاتی کہ دعویٰ خود ناقابلِ سماعت ہے۔

Jewan ان دونوں جائزوں کو واضح طور پر الگ کرتا ہے۔ عبوری تحفظ سے انکار کے باوجود دعویٰ فیصلے کے لیے برقرار رہتا ہے، جبکہ عرضیِ دعویٰ مسترد ہونے سے اس عدالت کی سطح پر کارروائی ختم ہو جاتی ہے۔ حکمِ امتناع کی درخواست کے معیارات کو محض آرڈر VII قاعدہ 11 پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ 1994 SCMR 826 سے متعلق بحث ملاحظہ کریں۔

عرضیِ دعویٰ مسترد کرنا اور واپس کرنا الگ ہیں

جہاں دعویٰ غلط عدالت میں دائر ہوا ہو اور اسے کسی دوسری مجاز عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے، وہاں آرڈر VII قاعدہ 10 CPC عرضیِ دعویٰ واپس کرنے سے متعلق ہے۔ یہ سببِ دعویٰ ظاہر نہ ہونے یا قانونی ممانعت کی وجہ سے عرضیِ دعویٰ مسترد کرنے سے اصولاً مختلف ہے۔

«غیر جامع» ہونے کا مطلب لامحدود اختیار نہیں

بعض نظائر میں کہا گیا ہے کہ قاعدہ 11 ان تمام صورتوں کا احاطہ نہیں کرتا جن میں ناقابلِ سماعت کارروائی ختم کی جا سکتی ہے۔ تاہم Jewan متنبہ کرتا ہے کہ ایسے مشاہدات متنازع دفاعی مؤقف پر انحصار کی اجازت نہیں دیتے۔ انہیں یہ عمومی اختیار نہیں سمجھنا چاہیے کہ جب بھی عدالت کو مدعی کا بیان غیر قائل کن لگے، وہ شہادت کی ضرورت ختم کر دے۔ سپریم کورٹ کا واضح کردہ فرق پڑھیے۔

عرضیِ دعویٰ مسترد ہونے کے خلاف کیا چارہ جوئی دستیاب ہے؟

ضابطۂ دیوانی کی دفعہ 2(2) کے تحت عرضیِ دعویٰ مسترد ہونا ڈگری کی تعریف میں شامل ہے۔ لہٰذا عام چارہ جوئی ڈگری کے خلاف اپیل ہے، عموماً دفعہ 96 کے تحت، البتہ متعلقہ قانونی نظام اور مجاز اپیلی فورم کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

Muhammad Ali and others v. Province of Punjab and others (2009 SCMR 1079) میں سپریم کورٹ نے عرضیِ دعویٰ مسترد کرنے کی ڈگری کی اہمیت اور قطعیت تسلیم کی۔ سندھ ہائی کورٹ نے بھی قاعدہ 11 کی درخواست مسترد کرنے کے عبوری حکم اور درخواست منظور کرکے عرضیِ دعویٰ مسترد کرنے کے حکم، جو ڈگری ہوتا ہے، میں فرق دہرایا ہے۔ اپیلی چارہ جوئی پر سندھ ہائی کورٹ کی بحث ملاحظہ کریں۔

اس لیے صحیح طریقۂ چارہ جوئی اہم ہے۔ اگر اعتراض یہ ہو کہ عدالت نے عرضیِ دعویٰ غلط پڑھی یا قانون غلط لاگو کیا، تو عموماً مناسب اپیل کے ذریعے رجوع کرنا چاہیے۔ محض یہ الزام کہ فیصلہ غلط تھا، دفعہ 12(2) CPC کو اپیل کا متبادل نہیں بناتا؛ اس دفعہ کی مخصوص قانونی بنیادیں — فریب، غلط بیانی یا اختیارِ سماعت کا فقدان — ثابت کرنا ضروری ہیں۔ ضابطۂ دیوانی کی دفعات 12(2) اور 96 پر بحث پڑھیے۔

کیا نئی عرضیِ دعویٰ دائر کی جا سکتی ہے؟

آرڈر VII قاعدہ 13 CPC کے مطابق عرضیِ دعویٰ کا مسترد ہونا بذاتِ خود اسی سببِ دعویٰ پر نئی عرضی پیش کرنے سے نہیں روکتا۔ یہ مشروط تحفظ ہے، اسی کارروائی کو بار بار شروع کرنے کا غیر محدود حق نہیں۔

Muhammad Anwar (decd.) through L.Rs. and others v. Essa and others (PLD 2022 SC 716) میں سپریم کورٹ نے تسلیم کیا کہ سببِ دعویٰ ظاہر کرنے کے نقص کو درست طور پر مرتب نئی عرضیِ دعویٰ کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ میعاد کا قانون مانع نہ ہو۔ تاہم مدعی کو واقعی نقص دور کرنا ہوگا؛ صرف الفاظ بدلنا یا ایک اور استدعا شامل کرنا کافی نہیں ہو سکتا۔

یہ قید خاص طور پر اہم ہے جہاں سابقہ فیصلے نے کسی قانونی رکاوٹ کو حتمی طور پر طے کر دیا ہو۔ Muhammad Ali v. Province of Punjab (2009 SCMR 1079) میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ قاعدہ 13 قطعیت اور امرِ مختومہ کے اصولوں کو ختم نہیں کرتا۔ اس پابند فیصلے کو کہ دعویٰ قانوناً ممنوع ہے، تقریباً وہی دعویٰ دوبارہ دائر کرکے محض نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نئی کارروائی اور فیصلوں کی قطعیت پر سندھ ہائی کورٹ کی بحث ملاحظہ کریں۔

عرضیِ دعویٰ مسترد ہونے سے میعاد نئے سرے سے شروع نہیں ہوتی، اصل نقص ختم نہیں ہوتا، اور سابقہ عدالتی فیصلہ خودبخود بے اثر نہیں ہو جاتا۔

صوبائی ترامیم کی جانچ ضروری ہے

پاکستان بھر کے لیے کسی قانونی بحث میں مقامی ضابطہ جاتی ترامیم کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

مثلاً پنجاب کے آرڈر VII قاعدہ 11-A کے مطابق مدعا علیہ قاعدہ 11 کے تحت عرضیِ دعویٰ مسترد کرنے کا اعتراض الگ درخواست کے بجائے جوابِ دعویٰ ہی میں اٹھا سکتا ہے۔ یہ شق Muhammad Khalid Chaudhry and others v. Dr. Manzoor Hussain Malik and others (2025 LHC 5450) کے پیراگراف 3 میں نقل ہوئی ہے؛ وہ مقدمہ عینی تعمیلِ معاہدہ کا تھا جس میں مدعا علیہان نے ثالثی کی شق کی بنیاد پر عرضیِ دعویٰ مسترد کرنے کی استدعا کی تھی۔ یہاں حوالہ اس فیصلے میں نقل کردہ ضابطہ جاتی متن کا ہے، نہ کہ اس نتیجے کا کہ ثالثی سے متعلق ہر اعتراض لازماً عرضیِ دعویٰ مسترد کرنے کا موجب ہے۔

لہٰذا کراچی کی کارروائی کے لیے موزوں مسودہ، متعلقہ متن اور قواعد دیکھے بغیر، خودبخود لاہور یا کسی دوسرے دائرۂ اختیار میں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ متعلقہ قانونی اصول اسی طریقۂ کار کے ذریعے لاگو ہوں گے جو اس عدالت میں نافذ ہو۔

مدعی اور مدعا علیہ کے لیے عملی نکات

مدعی کے لیے مضبوط جواب کا آغاز عرضیِ دعویٰ ہی سے ہوتا ہے: بیان کردہ حق، اس کی خلاف ورزی کے بنیادی حقائق اور قابلِ سماعت داد رسی کی نشاندہی کریں۔ اگر اعتراض متنازع حقائق پر منحصر ہو تو وہ حقائق واضح کریں اور بتائیں کہ شہادت کیوں ضروری ہے۔ محض یہ کہنا کہ ہر معاملے میں مکمل سماعت ضروری ہے، اتنا ہی غیر مفید ہے جتنا مدعا علیہ کا یہ کہنا کہ ہر انکار قانونی ممانعت ثابت کرتا ہے۔

مدعا علیہ کے مؤثر اعتراض میں مخصوص قانونی بنیاد، اس کی تائید کرنے والے مندرجات یا تسلیم شدہ دستاویزات، اور یہ وجہ واضح ہونی چاہیے کہ فیصلہ کرنے کے لیے متضاد واقعاتی بیانات میں سے کسی ایک کو درست چننا ضروری کیوں نہیں۔ متنازع دستخطوں، مبینہ ادائیگی یا معاہدے کی متنازع تکمیل پر بنیادی انحصار رکھنے والی دلیل، قاعدہ 11 کے بجائے مقدمے کے اصل حقائق و استحقاق سے متعلق ہو سکتی ہے۔

President, Zarai Taraqiati Bank Ltd., Head Office, Islamabad v. Kishwar Khan and others (2022 SCMR 1598) میں سپریم کورٹ کا طرزِ استدلال تسلیم کرتا ہے کہ حقائق پر منحصر سوالات کے لیے تحریری دعوے اور جواب، دستاویزی انکشاف و معائنہ، اور پھر مناسب ابتدائی تنقیحات یا مکمل سماعت کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ یہاں دستاویزی انکشاف سے مراد متعلقہ دستاویزات یا معلومات کے افشا اور معائنے کا ضابطہ جاتی عمل ہے۔

نتیجہ

آرڈر VII قاعدہ 11 فریقین اور عدالتی عمل دونوں کا تحفظ کرتا ہے، مگر اسے اپنی درست حدود میں رہ کر استعمال ہونا چاہیے۔ یہ عدالت کو غیر ضروری مکمل سماعت کے بغیر قانوناً ناقابلِ سماعت کارروائی ختم کرنے کی اجازت دیتا ہے؛ قابلِ سماعت ہونے کی جانچ کے نام پر متنازع شہادت طے کرنے کی نہیں۔ Jewan، Florida Builders اور بعد کی نظیریں مجموعی طور پر یہی توازن برقرار رکھتی ہیں۔ متعلقہ اصولوں پر سندھ ہائی کورٹ کا جائزہ ملاحظہ کریں۔

درست سوال یہ نہیں کہ مدعی کے جیتنے کا امکان کتنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عرضیِ دعویٰ کو درست طور پر سمجھنے اور قانوناً قابلِ غور مواد کے ساتھ دیکھنے پر، کیا وہ ایسا دعویٰ پیش کرتی ہے جسے آگے چلنے کا حق حاصل ہے؟

لیگم کراچی، پاکستان میں ایک لا فرم ہے جس کی پیشہ ورانہ تاریخ 1992 سے شروع ہوتی ہے۔ اس کی خدمات میں جائیداد کے تنازعات اور کارپوریٹ و تجارتی معاملات شامل ہیں۔ درست طور پر مرتب دیوانی دعویٰ، اور اس پر درست سمت میں اٹھایا گیا اعتراض، متعلقہ قانون، تحریری مؤقف اور دستاویزات کے محتاط جائزے سے شروع ہوتا ہے۔

حوالوں سے متعلق وضاحت: مقدمات کے نام اور قانونی جرائد کے حوالہ جات متعلقہ نظائر کی شناخت کرتے ہیں۔ جہاں کسی حوالے کا لنک سندھ ہائی کورٹ کے بعد کے فیصلے کی طرف جاتا ہے، وہاں وہ فیصلہ متعلقہ نظیر نقل کرتا یا اس پر بحث کرتا ہے؛ اس لنک کو سپریم کورٹ کی اصل رپورٹ کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

یہ مضمون پاکستان کے دیوانی طریقۂ کار کے بارے میں عمومی معلومات فراہم کرتا ہے۔ کوئی ضابطہ جاتی قدم اٹھانے سے پہلے متعلقہ صوبائی ترامیم، خصوصی قانونی دفعات اور ہر مقدمے کے مخصوص حقائق کو دیکھنا ضروری ہے۔

تازہ ترین مضامین