دیوانی دعویٰ صرف درست قانونی حق یا مطالبے کی نشاندہی کا نام نہیں؛ یہ بھی ضروری ہے کہ متعلقہ اشخاص عدالت کے سامنے بطور فریق موجود ہوں۔ کسی شخص کو فریق نہ بنانے سے ایسا حق یا مفاد زیرِ فیصلہ آسکتا ہے جس کا اس کی غیر موجودگی میں مناسب تعین ممکن نہ ہو۔ اس کے برعکس، کسی غیر متعلق شخص کو بلا ضرورت مدعا علیہ بنانے سے اسے ایسے مقدمے کے اخراجات اور زحمت اٹھانا پڑ سکتی ہے جس سے اس کا خاطر خواہ تعلق ہی نہ ہو۔
ضابطۂ دیوانی، 1908 (CPC) کا آرڈر اوّل، قاعدہ 10 ان مسائل کی اصلاح کا طریقۂ کار فراہم کرتا ہے۔ یہ عدالت کو اختیار دیتا ہے کہ ایسے شخص کو فریق بنائے جسے مقدمے میں شامل ہونا چاہیے، اور ایسے شخص کا نام خارج کرے جسے نادرست طور پر فریق بنایا گیا ہو۔ اس کا مقصد مؤثر فیصلہ ممکن بنانا ہے، نہ کہ ہر دلچسپی رکھنے والے شخص کو مقدمے میں شامل کرنا یا ایک دعوے کو غیر متعلق تنازعات کا مجموعہ بنا دینا۔ [1]
جائیداد اور وراثت کے تنازعات یا معاہداتی اور تجارتی مقدمات میں یہ فرق سمجھنا اتنا ہی اہم ہوسکتا ہے جتنا اپنے بنیادی حقوق پر لاگو قانون کو سمجھنا۔
آرڈر اوّل، قاعدہ 10 کے تحت کیا کیا جاسکتا ہے؟
بنیادی اختیار آرڈر اوّل، قاعدہ 10(2) میں دیا گیا ہے۔ عدالت کارروائی کے کسی بھی مرحلے پر، درخواست پر یا ازخود، مناسب شرائط عائد کرتے ہوئے یہ اختیار استعمال کرسکتی ہے۔ وہ نادرست طور پر شامل کیے گئے مدعی یا مدعا علیہ کا نام خارج کرسکتی ہے، یا ایسے شخص کو فریق بنا سکتی ہے جس کی شمولیت قانونی معیار پر پوری اترتی ہو۔ کسی باہر کے شخص کی مقدمے میں شامل ہونے کی درخواست کو عموماً درخواستِ شمولیتِ فریق یا درخواستِ مداخلت کہا جاتا ہے۔ [2]
قاعدہ 10 بعض دوسری صورتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ذیلی قاعدہ (1) کے تحت، حقیقی تنازع کے فیصلے کے لیے ضروری ہو تو مدعی کی شناخت کے بارے میں نیک نیتی سے ہونے والی غلطی درست کی جاسکتی ہے۔ ذیلی قاعدہ (3) مدعی یا نابالغ کی جانب سے دعویٰ دائر کرنے والے نمائندے، یعنی next friend، کے طور پر شمولیت کے سلسلے میں رضامندی کے تقاضے مقرر کرتا ہے۔ [2]
تاہم ذیلی قاعدہ (2) کے تحت بنیادی سوال یہ ہے کہ مجوزہ فریق ضروری فریق (necessary party) ہے یا مناسب فریق (proper party)۔ شمولیت کی یہ دو متبادل بنیادیں ہیں؛ درخواست گزار کے لیے دونوں ثابت کرنا لازم نہیں۔
ضروری فریق اور مناسب فریق: بنیادی فرق
ضروری فریق: جس کے بغیر مؤثر ڈگری نہیں دی جاسکتی
ضروری فریق وہ شخص ہے جسے مقدمے میں شامل کیا جانا چاہیے تھا اور جس کی غیر موجودگی میں عدالت مؤثر ڈگری نہیں دے سکتی۔
اصل بات صرف یہ نہیں کہ مقدمہ اس شخص کے لیے اہم ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کی شرکت کے بغیر مطلوبہ داد رسی کا درست اور مؤثر تعین ہوسکتا ہے۔ چنانچہ کسی واقعی ضروری فریق کو شامل نہ کرنے کی خامی برقرار رہے تو یہ مقدمے کے لیے مہلک ہوسکتی ہے۔ یہ فرق سپریم کورٹ کے فیصلوں، بشمول Mst. Rani v. Mst. Razia Sultana، 1994 SCMR 2268، میں واضح ہے، اور سندھ ہائی کورٹ بھی اسی معیار کو اختیار کرتی ہے۔ [1]
ترکے کا تنازع اس سوال کو واضح کرتا ہے۔ اگر دعوے میں کسی متعین جائیداد کے متنازع حصص کا جامع تعین مطلوب ہو تو درخواست میں بتایا جانا چاہیے کہ مجوزہ ڈگری سے کس شخص کا دعویٰ کردہ حق لازماً طے ہوگا، متاثر یا ختم ہوگا، یا غیر طے شدہ رہ جائے گا۔ محض کسی کو رشتہ دار قرار دینا اس سوال کا جواب نہیں۔
مناسب فریق: جس کی موجودگی مکمل فیصلے کے لیے درکار ہو
مناسب فریق وہ شخص ہے جس کی موجودگی مقدمے میں شامل سوالات کے مکمل اور مؤثر فیصلے کے لیے درکار ہو، اگرچہ اس کے بغیر موجودہ فریقوں کے درمیان مؤثر ڈگری دینا ممکن ہو۔
Islamic Republic of Pakistan v. Abdul Wali Khan، PLD 1975 SC 463 میں سپریم کورٹ نے اس زمرے کو متعدد مقدمات سے بچنے اور ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے مفادات کے تحفظ سے منسلک کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ کسی شخص کے مناسب فریق ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ دعوے میں اس کے خلاف کوئی داد رسی مانگی گئی ہو۔ یہی اصول Uzin Export Import Enterprises for Foreign Trade v. Union Bank of Middle East Ltd.، PLD 1994 SC 95 میں دوبارہ تسلیم کیا گیا۔ [3]
عملی فرق اس شخص میں ہے جس کی شرکت مؤثر ڈگری کے لیے ناگزیر ہو، اور اس شخص میں جس کی شرکت موجودہ تنازع کے مکمل حل کے لیے درکار ہو۔ محض مقدمے میں اپنی بات کہنے کی خواہش کسی شخص کو ان میں سے کسی زمرے میں شامل نہیں کرتی۔
عدالتی صوابدید، غیر محدود اختیار نہیں
Pakistan Banking Council v. Ali Mohtaram Naqvi، 1985 SCMR 714 میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ متعلقہ شخص کو تسلیم شدہ زمروں میں سے کسی ایک میں آنا چاہیے۔ عدالت کی وسیع صوابدید اسے ایسے شخص کو شامل کرنے کا اختیار نہیں دیتی جو نہ ضروری فریق ہو نہ مناسب فریق، اور نہ ہی غیر متعلق اشخاص کو بلا ضرورت مقدمے کی مشقت میں ڈالنے کی اجازت دیتی ہے۔ [3]
اسی طرح Ghulam Ahmad Chaudhry v. Akbar Hussain، PLD 2002 SC 615 واضح کرتا ہے کہ فریقوں کی شمولیت عموماً عدالتی صوابدید کا معاملہ ہے، جو ہر مقدمے کے مخصوص حقائق اور حالات کو دیکھ کر استعمال کی جاتی ہے۔ کارروائی شروع ہوجانے کے بعد کسی نئے فریق کی شمولیت عدالت کی اجازت سے ہوتی ہے؛ موجودہ فریق ازخود فریقوں کی فہرست تبدیل نہیں کرسکتے۔ [4]
اس لیے درخواست تیار کرتے وقت دو باہم متعلق سوالات پوچھنا مفید ہے:
درخواست گزار کا اس تنازع میں کون سا متعین مفاد ہے، اور اس کی غیر موجودگی میں کون سا معاملہ مناسب طور پر طے نہیں ہوسکے گا؟
دوسرا سوال خاص اہمیت رکھتا ہے۔ درخواست میں صرف مقدمے سے پیدا ہونے والی مشکلات کا ذکر کافی نہیں۔ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ عدالت کے سامنے پہلے سے موجود مسائل کے حل میں مجوزہ فریق کی شرکت کیوں درکار ہے۔
Nazar Gul کا فیصلہ دراصل کیا واضح کرتا ہے؟
سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ Nazar Gul v. Maymar Housing Service (Pvt.) Ltd. & others، 2019 MLD 212، اصولوں کے جامع خلاصے اور ان کے عملی اطلاق، دونوں حوالوں سے اہم ہے۔
اس فیصلے میں دو الگ دعووں میں مداخلت کی درخواستوں پر غور کیا گیا۔ پہلا دعویٰ معاہدۂ فروخت کی تکمیل سے متعلق تھا۔ اس میں مجوزہ مداخلت کنندگان نہ ضروری فریق تھے نہ مناسب فریق۔ اپنے الگ الاٹمنٹ معاملات کی بنیاد پر قبضہ حاصل کرنے کی ان کی کوشش ایسے مطالبات پیش کرتی تھی جن کے لیے الگ قانونی چارہ جوئی درکار تھی۔
دوسرے دعوے میں، تاہم، عدالت نے بعض مداخلت کنندگان کو مناسب فریق کے طور پر شامل کیا، کیونکہ ان کی ادا کردہ رقوم پہلے سے زیرِ سماعت حسابات کے تنازع سے متعلق تھیں۔ ان کی شرکت محدود رکھی گئی: وہ اسی دعوے میں اپنے الاٹمنٹ لیٹرز کی تکمیل کا مطالبہ نہیں کرسکتے تھے۔
عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف یہ نہ دیکھا جائے کہ مقدمہ درخواست گزار پر کیسے اثر انداز ہوگا، بلکہ یہ دیکھا جائے کہ اس کی غیر موجودگی فیصلے کو کیسے متاثر کرے گی۔ عملی سبق یہ ہے کہ ایک ہی شخص ایک دعوے میں شامل کیے جانے کا اہل ہوسکتا ہے اور دوسرے میں نہیں؛ اس کا انحصار اصل زیرِ نزاع سوالات پر ہوتا ہے۔ [1]
ایک حالیہ مثال: مقدمے سے متاثر ہونے والے رہن کے حقوق
Industrial Development Bank Ltd. v. Bankers Equity Ltd. & others، اسپیشل ہائی کورٹ اپیل نمبر 418 آف 2022، فیصلہ مؤرخہ 19 اگست 2025 میں سندھ ہائی کورٹ نے ایسے درخواست گزار کی شمولیت پر غور کیا جسے جائیداد پر pari passu رہن کا حق حاصل تھا، یعنی اس کا حق دوسرے قرض دہندہ کی ضمانت کے ساتھ مساوی درجے پر تھا۔
درخواست گزار کو ضروری فریق نہیں سمجھا گیا۔ اس کے باوجود، بالآخر صادر ہونے والی بینکاری ڈگری کے نفاذ میں حقِ فکِ رہن کے خاتمے یا نیلامی کی کارروائی سے اس کے رہنی حقوق متاثر ہوسکتے تھے۔ اس لیے عدالت نے پہلے انکار کو کالعدم کرتے ہوئے اسے مناسب فریق کے طور پر شامل ہونے کی اجازت دی۔ [5]
یہ بینکاری اور مالیاتی تنازع واضح کرتا ہے کہ جانچ صرف اس سوال پر ختم نہیں ہوسکتی کہ مدعی مجوزہ مدعا علیہ سے براہِ راست رقم یا کوئی دوسری داد رسی مانگ رہا ہے یا نہیں۔ مطلوبہ داد رسی کے نتائج بھی کسی قانونی مفاد کو متاثر کرسکتے ہیں۔
گواہ ہونا اور فریق ہونا ایک بات نہیں
کسی درخواست گزار کے پاس اہم شہادت یا متعلقہ دستاویزات ہوسکتی ہیں، یا اس نے متنازع معاملہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوسکتا ہے۔ صرف یہ باتیں اسے فریق بننے کا حق نہیں دیتیں۔
Naeem Gabol & others v. Province of Sindh & others، ہائی کورٹ اپیل نمبر 217 آف 2024، فیصلہ مؤرخہ 31 مئی 2024 میں سندھ ہائی کورٹ نے محض متعلقہ ریکارڈ موجود ہونے کی وجہ سے کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو فریق بنانا ضروری قرار نہیں دیا۔ اتھارٹی کے کسی گواہ کو ریکارڈ پیش کرنے کے لیے طلب کیا جاسکتا تھا، بغیر اس کے کہ اتھارٹی خود فریق بنتی۔ [6]
وراثتی مقدمات میں یہ فرق اہم ہے۔ خاندانی تصفیے کا چشم دید گواہ ایک اہم گواہ ہوسکتا ہے۔ لیکن جو شخص تصفیے کا گواہ ہونے کے ساتھ ایسے حق کا بھی دعوے دار ہو جو اس تصفیے کے نفاذ یا کالعدم ہونے سے براہِ راست متاثر ہوتا ہو، اس کی حیثیت مختلف سوال پیدا کرتی ہے۔ درخواست میں اسی حق یا مفاد کی نشاندہی ہونی چاہیے، نہ کہ صرف واقعات سے واقفیت پر انحصار۔
وراثت اور جائیداد کے تنازع میں قاعدے کا اطلاق
شمولیتِ فریق کی ایک درخواست سے اخذ کردہ، شناختی تفصیلات کے بغیر، یہ مثال دیکھیے۔
ایک بیوہ ترکے سے متعلق دعوے میں فریق بننا چاہتی ہے۔ اس کا مرحوم شوہر مدعا علیہ تھا اور خود اصل مالک کا وارث بھی تھا۔ وہ اور اس کے بچے متنازع جائیداد کے ایک حصے میں رہتے ہیں۔ اس کا مؤقف ہے کہ اس نے تزئین و مرمت پر خاطر خواہ رقم خرچ کی اور ترکے کی تقسیم میں شریک رہی یا اس کی گواہ تھی۔
ان بیانات سے کئی الگ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ انہیں شمولیت کی ایک دوسرے کے قائم مقام بنیادیں نہیں سمجھنا چاہیے۔
دعویٰ کردہ قانونی مفاد کی نشاندہی کریں
سب سے مضبوط نقطۂ آغاز درخواست گزار اور زیرِ نزاع حقوق کے درمیان دعویٰ کردہ تعلق ہے۔
تحریری مؤقف میں واضح ہونا چاہیے کہ آیا شوہر کو وفات سے پہلے کوئی حصہ حاصل ہوچکا تھا، درخواست گزار اس حصے کے ذریعے اپنا حق کیسے اخذ کرتی ہے، اور موجودہ دعوے میں اعلانِ حق، تقسیم، حسابات یا قبضے کی کون سی استدعا اسے متاثر کرے گی۔ اموات کی ترتیب، جائیداد کے مبینہ انتقالِ حق اور مطلوبہ داد رسی کی صحیح نوعیت، سب پر توجہ ضروری ہے۔
درخواست کی تیاری میں شجرۂ نسب، وفات کے ریکارڈ، متعلقہ اسنادِ ملکیت اور مبینہ تقسیم کی کوئی دستاویز، اس عمومی بیان سے زیادہ مفید ہیں کہ درخواست گزار کا «ترکے سے تعلق ہے»۔ مقصد تعلق کو ثابت کرنا ہے، محض اس کا ذکر کرنا نہیں۔
قبضے اور مرمت کے اخراجات کی اہمیت اور حدود واضح کریں
جائیداد میں رہائش درخواست گزار کی فوری تشویش واضح کرسکتی ہے۔ مرمت کی رسیدیں اخراجات ثابت کرسکتی ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بات تنہا ملکیت کے الگ سوال کا جواب نہیں دیتی، نہ یہ ثابت کرتی ہے کہ اسی دعوے میں شرکت کیوں ضروری ہے۔
مثلاً رسید یہ ثابت کرسکتی ہے کہ کسی شخص نے تعمیراتی سامان کی قیمت ادا کی۔ اس سے لازماً یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ادائیگی کس قانونی بنیاد پر ہوئی، واپسی کا وعدہ تھا یا نہیں، یا اس سے کوئی حقِ ملکیت پیدا ہوا۔
اس لیے درخواست میں قبضے اور اخراجات کو ایسے متعین مطالبے سے جوڑنا چاہیے جو پہلے ہی کارروائی سے متعلق ہو۔ یہ فرض نہیں کرنا چاہیے کہ فریق بننے کی اجازت ملتے ہی ملکیت کا اعلان یا مرمت کے اخراجات کی واپسی کی ڈگری بھی مل جائے گی۔
ذاتی حق کی بنیاد پر شمولیت اور وفات کے بعد قائم مقامی میں فرق کریں
اگر شوہر پہلے سے مدعا علیہ تھا اور دورانِ دعویٰ وفات پاگیا تو آرڈر XXII، بالخصوص قاعدہ 4 کا جائزہ ضروری ہے۔ اس کے ترکے کی نمائندگی اور الگ ذاتی مفاد کی بنیاد پر مداخلت، دو مختلف ضابطہ جاتی سوالات ہیں۔ آرڈر اوّل، قاعدہ 10 کو قابلِ اطلاق قائم مقامی کے طریقۂ کار سے بچنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
بچوں کی نمائندگی کا الگ انتظام کریں
آرڈر XXXII کے تحت نابالغ مدعی اپنی جانب سے دعویٰ دائر کرنے والے نمائندے، یعنی next friend، کے ذریعے کارروائی کرتا ہے؛ نابالغ مدعا علیہ کے لیے مقدمے کی غرض سے سرپرست درکار ہوتا ہے۔ نمائندے کا مفاد نابالغ کے مفاد سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔ ماں کا اپنی ذاتی حیثیت میں فریق بننا، بذاتِ خود، نہ بچوں کو فریق بناتا ہے اور نہ ان کی نابالغوں کی حیثیت سے مناسب قانونی نمائندگی قائم کرتا ہے۔
اس مثال کا سبق واضح ہے: درخواست زیادہ مضبوط ہوتی ہے جب درخواست گزار کے اپنے مطالبے، مرحوم فریق کی نمائندگی، بچوں کے حقوق اور شہادتی پس منظر کو الگ الگ بیان کیا جائے۔
فریق کا اخراج: نادرست شمولیت کی اصلاح، قبل از وقت فیصلہ نہیں
آرڈر اوّل، قاعدہ 10(2) نادرست طور پر شامل فریق کا نام خارج کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے۔ لیکن اخراج کسی متنازع مطالبے کو شہادت کی بنیاد پر طے کرنے کا متبادل نہیں۔
Abdul Samad & others v. Sher Muhammad & others، آئینی درخواست نمبر S-529 آف 2025، فیصلہ مؤرخہ 18 مئی 2026 میں سندھ ہائی کورٹ نے قبضے کے ایک دعوے سے مدعا علیہ کے اخراج پر غور کیا۔ مدعیان کا الزام تھا کہ اس شخص نے انہیں بے دخل کرنے میں مدد کی تھی، اور انہوں نے اس کے خلاف ہرجانے کی استدعا بھی کی تھی۔ عدالتِ نگرانی نے اسے اس بنیاد پر خارج کردیا تھا کہ وہ جائیداد میں کسی حق یا مفاد کا دعویٰ نہیں کرتا۔
ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ کالعدم کردیا۔ الزامات کو شہادت سے پرکھنا ضروری تھا؛ مدعا علیہ کی جانب سے ملکیت کا دعویٰ نہ کرنے سے اس کے خلاف پہلے سے پیش کردہ مطالبہ ختم نہیں ہوجاتا تھا۔
MCB Bank Ltd. v. Sajida Naqi Riaz، 2019 CLC 1371 پر انحصار کرتے ہوئے عدالت نے واضح کیا کہ نام خارج کرنے کا اختیار نادرست شمولیت کی اصلاح کے لیے ہے۔ اسے کسی مدعا علیہ کے خلاف دعویٰ مکمل سماعت کے بغیر خارج کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
کسی شخص کے خلاف مبینہ ذمہ داری اسے متعلقہ مدعا علیہ بنا سکتی ہے، خواہ وہ متنازع جائیداد کی ملکیت کا دعوے دار نہ ہو۔ [7]
کیا کسی شخص کو فریق نہ بنانا لازماً دعویٰ ناکام کردیتا ہے؟
نہیں۔ آرڈر اوّل، قاعدہ 9 کے مطابق محض فریقوں کی نادرست شمولیت یا عدم شمولیت کی وجہ سے دعویٰ ناکام نہیں ہونا چاہیے، اور عدالت اپنے سامنے موجود فریقوں کے حقوق اور مفادات کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ قابلِ اصلاح خامی اور ڈگری کے لیے ناگزیر شخص کی غیر حل شدہ عدم موجودگی میں فرق کرنا ضروری ہے۔ اسی بنا پر سندھ ہائی کورٹ نے فریقوں کی فہرست میں تکنیکی نقص کی وجہ سے کارروائی رد کرنے کے بجائے مناسب اصلاح کا موقع دینے پر زور دیا ہے۔ [8]
اس اصول کا مطلب یہ نہیں کہ ضروری فریق کو شامل کرنا اختیاری ہوجاتا ہے۔ Ghulam Ahmad Chaudhry کے مطابق، ضروری فریق کی عدم شمولیت کے باعث ڈگری اس پر لازم نہ ہوسکے گی۔ عملی مقصد یہ ہے کہ خامی کو مؤثر فیصلے میں رکاوٹ بننے سے پہلے شناخت کرکے دور کردیا جائے۔ [4]
چنانچہ درست سوال صرف یہ نہیں کہ «کیا کسی کو فریق نہیں بنایا گیا؟» بلکہ یہ ہے کہ «کیا اس عدم شمولیت سے مطلوبہ داد رسی کا مؤثر فیصلہ رک جاتا ہے، اور کیا اب اس کی اصلاح ہوسکتی ہے؟»
درخواست یا اعتراض کب پیش کرنا چاہیے؟
اگرچہ قاعدہ 10 کارروائی کے کسی بھی مرحلے پر مداخلت کی اجازت دیتا ہے، بروقت اقدام پھر بھی اہم ہے۔ Ghulam Ahmad Chaudhry اختیار کی وسعت کو تسلیم کرتا ہے، لیکن اس سے متعلقہ مرحلے کے ضابطہ جاتی تقاضے ختم نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر، اپیل میں شمولیت کے لیے درخواست گزار کے مفاد کے ساتھ اپیلی کارروائی کے قواعد کا بھی جائزہ ضروری ہے۔ [4]
آرڈر اوّل، قاعدہ 13 کے تحت نادرست شمولیت یا عدم شمولیت کا اعتراض اولین موقع پر، اور عموماً تنقیحات کے تعین کے وقت یا اس سے پہلے، اٹھانا چاہیے؛ سوائے اس کے کہ اعتراض کی بنیاد بعد میں پیدا ہوئی ہو۔ بروقت اعتراض نہ کرنے پر اسے ترک شدہ سمجھا جاسکتا ہے۔
Muhammad Arif v. District and Sessions Judge, Sialkot، 2011 SCMR 1591 میں سپریم کورٹ نے بروقت اعتراضات کی اہمیت واضح کی اور تسلیم کیا کہ تمام فریقوں کا پورے موضوعِ دعویٰ میں برابر مفاد ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ یہ مقدمہ عائلی عدالت کے تناظر میں سامنے آیا، دیوانی دعووں میں شمولیت سے متعلق اس کی تشریح بعد میں سندھ ہائی کورٹ نے بھی اختیار کی ہے۔ [8]
عملی طور پر، تاخیر سے عدالت آنے والے درخواست گزار کو بتانا چاہیے کہ متعلقہ حقائق کب معلوم ہوئے اور شمولیت پہلے کیوں طلب نہیں کی گئی۔ بروقت اقدام عدالت کو شہادت اور حتمی فیصلے سے پہلے درست فریقوں کا تعین کرنے کا بہتر موقع دیتا ہے۔
فریق شامل ہونے کے بعد کیا ہوتا ہے؟
قاعدہ 10(4) کے تحت، جب تک عدالت دوسری ہدایت نہ دے، عرضیِ دعویٰ میں حسبِ ضرورت ترمیم کی جاتی ہے اور نئے مدعا علیہ کو ترمیم شدہ سمن اور عرضیِ دعویٰ کی نقول کی تعمیل کرائی جاتی ہے۔
شمولیت پر ایسی حدود بھی عائد کی جاسکتی ہیں جو دعوے کے موجودہ دائرے کو محفوظ رکھیں۔ Uzin Export Import Enterprises میں اجازت یافتہ دفاع بینک ضمانتوں کے تحت مطالبہ کردہ رقم کی درستی تک متعلق تھا؛ مداخلت ہر ممکن تنازع پیش کرنے کی غیر محدود اجازت نہیں تھی۔ [3]
یہ اس اعتراض کا مفید جواب ہے کہ ہر اضافی فریق لازماً کارروائی کو پٹڑی سے اتار دے گا۔ جہاں شمولیت جائز ہو، مناسب طور پر مرتب کردہ حکم شرکت کا مقصد متعین کرسکتا ہے اور غیر متعلق تنازعات کو اصل مقدمے پر غالب آنے سے روک سکتا ہے۔
میعادِ دعویٰ: شمولیت کا اثر خودبخود اصل تاریخِ دائرگی تک نہیں جاتا
ایک الگ سوال یہ ہے کہ نئے شامل ہونے والے فریق سے متعلق مطالبہ قانونی میعاد کے اندر ہے یا نہیں۔
قانونِ تحدیدِ میعاد، 1908 کی دفعہ 22 کے تحت، نئے شامل یا قائم مقام مدعی یا مدعا علیہ کے حوالے سے دعویٰ عموماً اس تاریخ کو دائر سمجھا جاتا ہے جب اسے فریق بنایا گیا۔ اس میں استثنائی صورتیں بھی ہیں، جن میں دورانِ دعویٰ کسی حق کی منتقلی یا قانوناً منتقل ہونے کے باعث شمولیت یا قائم مقامی، اور مدعی کو مدعا علیہ یا مدعا علیہ کو مدعی بنانا شامل ہیں۔
قاعدہ 10(5) الگ طور پر نئے مدعا علیہ کے خلاف کارروائی کے آغاز کو سمن کی تعمیل سے جوڑتا ہے، اور صراحتاً اسے دفعہ 22 کے تابع رکھتا ہے۔
عملی احتیاط یہ ہے کہ کسی شخص کو شامل کرنے کی اجازت مل جانا، بذاتِ خود، میعاد کا مسئلہ حل نہیں کرتا۔ وکیل کو عام شمولیت، قائم مقامی اور انتقالِ حق میں فرق کرکے متعلقہ تاریخوں کا جائزہ لینا چاہیے، نہ کہ یہ فرض کرلینا چاہیے کہ اصل تاریخِ دائرگی ہر بعد کے مطالبے کو بھی تحفظ دے گی۔
مؤثر درخواست کیسے تیار کی جائے؟
درخواست کو چار بنیادی امور کے گرد ترتیب دینا مفید ہے:
- موجودہ تنازع: مطلوبہ داد رسی اور ان مسائل کی نشاندہی کریں جن کا عدالت نے فیصلہ کرنا ہے۔
- درخواست گزار کا تعلق: متعلقہ دستاویزات کے ساتھ قانونی مفاد، مبینہ ذمہ داری یا نمائندہ حیثیت واضح کریں جس پر انحصار کیا جارہا ہے۔
- شرکت کی ضرورت: بتائیں کہ درخواست گزار کے بغیر مؤثر ڈگری کیوں نہیں دی جاسکتی، یا مکمل فیصلے کے لیے اس کی موجودگی کیوں درکار ہے۔
- درست ضابطہ جاتی استدعا: مقدمے میں مجوزہ حیثیت متعین کریں اور جہاں متعلق ہو، نتیجتاً درکار ترمیم، نابالغوں کی نمائندگی، قائم مقامی یا دوسری ہدایات بھی طلب کریں۔
اخراج کی درخواست میں اسی مناسبت سے یہ واضح کرنا ہوگا کہ شخص کو نادرست طور پر فریق کیوں بنایا گیا، نہ کہ صرف یہ کہنا کہ اس کے خلاف الزامات بالآخر ثابت نہیں ہوں گے۔
مرکوز درخواست، درخواست گزار اور موجودہ فریقوں کے ہر اختلاف کی طویل تفصیل سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ ہر بیان کردہ حقیقت کو قانونی معیار کے سوال کا جواب دینے میں مدد دینی چاہیے۔
نتیجہ
آرڈر اوّل، قاعدہ 10 کا تعلق درست فریقوں کو عدالت کے سامنے لانے سے ہے، نہ کہ زیادہ سے زیادہ اشخاص کو مقدمے میں شامل کرنے سے۔
مجوزہ مداخلت کنندہ کا بنیادی کام اپنے متعین مفاد کو مقدمے میں پہلے سے شامل سوالات سے جوڑنا ہے۔ اخراج چاہنے والے شخص کا کام یہ ثابت کرنا ہے کہ شمولیت نادرست تھی، بغیر اس کے کہ عدالت سے متنازع اصل معاملے کا قبل از وقت فیصلہ مانگا جائے۔
عدالتی فیصلے متوازن طریقۂ کار واضح کرتے ہیں: جہاں شرکت درکار ہو وہاں اجازت دی جائے، غیر متعلق تنازعات خارج رکھے جائیں، اشخاص کو غیر ضروری مقدمہ بازی سے بچایا جائے، اور ضابطہ جاتی نقائص کو حتمی فیصلے کو متاثر کرنے سے پہلے درست کیا جائے۔ سب سے بڑھ کر، دعویٰ میں فریق بن جانا، بنیادی مطالبہ ثابت ہوجانے کے برابر نہیں۔ اس سے متعلقہ مسائل کی مناسب سماعت اور فیصلے کا موقع ملتا ہے۔
یہ مضمون پاکستان میں دیوانی طریقۂ کار کے بارے میں عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، بالخصوص سندھ کے حوالے سے۔ ہر مقدمے میں قابلِ اطلاق ضابطہ جاتی احکام، مقامی ترامیم اور کسی خصوصی قانونی فورم کے تقاضوں کا الگ جائزہ لینا چاہیے۔
قانونی مآخذ اور عدالتی فیصلوں کے روابط
ذیل کے حوالوں سے متعلقہ قوانین اور عدالتی فیصلے کھولے جاسکتے ہیں۔ جہاں کسی نظیر کے لیے ایسے دوسرے فیصلے کا ربط دیا گیا ہے جو اس پر بحث کرتا ہے، وہاں اس کی وضاحت موجود ہے؛ اس دستاویز کو اصل نظیر کا فیصلہ قرار نہیں دیا گیا۔
[1] Nazar Gul v. Maymar Housing Service (Pvt.) Ltd. & others — 2019 MLD 212. اس فیصلے میں سندھ ہائی کورٹ نے Mst. Rani v. Mst. Razia Sultana (1994 SCMR 2268) پر بھی بحث کی ہے۔
[2] ضابطۂ دیوانی، 1908 — آرڈر اوّل، آرڈر XXII اور آرڈر XXXII۔
[3] Uzin Export Import Enterprises for Foreign Trade v. Union Bank of Middle East Ltd. — PLD 1994 SC 95. اس فیصلے میں Islamic Republic of Pakistan v. Abdul Wali Khan (PLD 1975 SC 463) اور Pakistan Banking Council v. Ali Mohtaram Naqvi (1985 SCMR 714) پر بھی بحث کی گئی ہے۔
[6] Naeem Gabol & others v. Province of Sindh & others — H.C.A. No. 217 of 2024 (2024-05-31).
[7] Abdul Samad & others v. Sher Muhammad & others — C.P. No. S-529 of 2025 (2026-05-18). اس فیصلے میں MCB Bank Ltd. v. Sajida Naqi Riaz (2019 CLC 1371) کا اطلاق بھی کیا گیا ہے۔



