کسی خاتون کا اپنی شادی ختم کرنے کا فیصلہ لازماً یہ معنی نہیں رکھتا کہ اس نے خلع کا راستہ اختیار کیا ہے، اور نہ ہی اس سے خودبخود یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے حق مہر سے دست بردار ہونے پر رضامند ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں میں بارہا واضح کیا گیا ہے کہ عدالت کو خلع کے ذریعے ازدواجی رشتے سے علیحدگی چاہنے والی بیوی اور قانون میں تسلیم شدہ اسباب پر تنسیخ نکاح چاہنے والی بیوی کے درمیان فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اسی فرق پر اس کے اہم مالی حقوق کا برقرار رہنا منحصر ہو سکتا ہے۔
لہٰذا یہ محض اصطلاحات کا اختلاف نہیں۔ اس کا تعلق نکاح ختم کرنے کی قانونی بنیاد، مطلوبہ ثبوت، بیوی کے باخبر انتخاب اور اس کے حق مہر پر مرتب ہونے والے اثرات سے ہے۔ حق مہر بیوی کا وہ ازدواجی حق ہے جس کی ادائیگی شوہر کے ذمے ہوتی ہے؛ یہ جہیز اور دلہن کو دیے گئے تحائف سے الگ ہے۔
خلع بھی تنسیخ نکاح کی ایک صورت ہے
درست قانونی مفہوم میں خلع، نکاح کی تنسیخ کا ایک طریقہ ہے، اس کی ضد نہیں۔ پاکستان میں عائلی مقدمات کے دوران ان دونوں اصطلاحات کا تقابل عموماً عدالتی خلع اور قانونی اسباب کی بنیاد پر عدالتی تنسیخ نکاح کے درمیان کیا جاتا ہے، بالخصوص تنسیخ ازدواج مسلمانان ایکٹ، 1939 کے تحت۔ مؤخرالذکر کو عام طور پر فسخ نکاح بھی کہا جاتا ہے۔ دونوں راستے بیوی اختیار کر سکتی ہے؛ فرق یہ نہیں کہ خلع بیوی شروع کرتی ہے جبکہ تنسیخ نکاح شوہر شروع کرتا ہے۔
بنیادی فرق یہ ہے کہ خلع کے لیے بیوی کو شوہر کی بدسلوکی کا کوئی مخصوص قانونی سبب ثابت کرنا ضروری نہیں، جبکہ کسی متعین قانونی سبب پر تنسیخ نکاح کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے اس سبب کا ثابت ہونا ضروری ہے۔ مالی نتائج بھی نمایاں طور پر مختلف ہو سکتے ہیں، جیسا کہ Ibrahim Khan v. Mst. Saima Khan and others, PLD 2024 SC 645 میں واضح کیا گیا۔
عدالتی خلع کیا ہے؟
عدالتی خلع بیوی کو اس صورت میں ازدواجی بندھن سے رہائی حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرتی ہے جب اسلامی قانون کی مقرر کردہ حدود کے اندر ازدواجی تعلق برقرار رکھنا ممکن نہ ہو۔ اسے میاں بیوی کے درمیان باہمی گفت و شنید سے طے پانے والے خلع کے معاہدے سے الگ سمجھنا چاہیے۔
Mst. Khurshid Bibi v. Babu Muhammad Amin, PLD 1967 SC 97 میں سپریم کورٹ نے تسلیم کیا کہ مناسب مقدمے میں بیوی کو شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی عدالتی خلع حاصل کرنے کا حق ہے۔ لہٰذا شوہر کا انکار عدالتی خلع پر حتمی رکاوٹ نہیں بنتا۔ Dr. Faryal Maqsood and another v. Khurram Shehzad Durrani and others, PLD 2025 SC 262 میں عدالت نے اسی نظیر پر انحصار کرتے ہوئے اس کا دوسرا پہلو واضح کیا: عدالت بیوی کی اپنی صریح یا ضمنی درخواست کے بغیر خلع نہیں دے سکتی۔
تاہم ایک اتنا ہی اہم فرق یہ ہے کہ شوہر کی رضامندی غیر ضروری ہو سکتی ہے، مگر بیوی کا خود خلع کا انتخاب کرنا ضروری ہے۔ عدالت شوہر کی خواہش کے برخلاف خلع دینے کے اختیار کو بیوی کی خواہش کے برخلاف اس پر خلع مسلط کرنے کا اختیار نہیں سمجھ سکتی۔ یہ چارۂ کار بیوی کا ہے، اور اس کے ممکنہ منفی مالی نتائج کے باعث بیوی کا انتخاب خاص اہمیت رکھتا ہے۔
قانونی اسباب پر تنسیخ نکاح کیا ہے؟
تنسیخ ازدواج مسلمانان ایکٹ، 1939 کی دفعہ 2 مسلم بیوی کو نکاح کی تنسیخ کے متعدد اسباب فراہم کرتی ہے۔ ان میں شوہر کا دو سال تک نان و نفقہ فراہم نہ کرنا؛ معقول وجہ کے بغیر تین سال تک ازدواجی فرائض ادا نہ کرنا؛ ظلم و ستم؛ اور مسلم عائلی قوانین آرڈیننس، 1961 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوسری شادی کرنا شامل ہیں۔ دیگر اسباب میں چار سال تک شوہر کا اتا پتا معلوم نہ ہونا بھی شامل ہے، تاہم اس پر ایکٹ میں درج مخصوص حفاظتی شرائط لاگو ہوتی ہیں۔ ہر قانونی سبب لازماً دانستہ بدعملی پر مبنی نہیں ہوتا۔
دفعہ 5 بیوی کے حق مہر سے متعلق موجودہ حقوق کو صراحت کے ساتھ محفوظ رکھتی ہے۔ اس لیے ایکٹ کے تحت تنسیخ نکاح حاصل کرنا بذات خود ان حقوق سے دست برداری کا تقاضا نہیں کرتا۔ اس کا مطلب ہر دعویٰ کردہ رقم کا خودکار طور پر مل جانا بھی نہیں؛ عدالت کو استحقاق، اس کی شرائط اور پہلے سے کی گئی ادائیگی کا تعین کرنا ہوتا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ قانونی اسباب پر تنسیخ نکاح، حق مہر چھوڑ کر رہائی حاصل کرنے سے مشروط نہیں۔
سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے: عدالت بیوی کے اصل دعوے کی جگہ خلع نہیں دے سکتی
Ibrahim Khan v. Mst. Saima Khan and others, PLD 2024 SC 645
Ibrahim Khan v. Mst. Saima Khan and others, PLD 2024 SC 645 میں فیملی کورٹ نے خلع کی ڈگری دے کر بیوی کو مکان کے نصف حصے پر مشتمل حق مہر سے دست بردار سمجھ لیا، حالانکہ اس نے خلع طلب ہی نہیں کی تھی۔
بعدازاں ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ شوہر پہلے ہی اسے طلاق دے چکا تھا، اس لیے خلع دینے کی ضرورت نہیں تھی، اور اس کا حق مہر بحال کر دیا۔ سپریم کورٹ نے اس نتیجے کو برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا کہ عدالت بیوی کے اصل دعوے کی جگہ ایسی خلع کی ڈگری کیوں نہیں دے سکتی جو اس نے طلب نہ کی ہو۔ دونوں کے قانونی تقاضے اور مالی نتائج مختلف ہیں۔
یہ مقدمہ ظاہر کرتا ہے کہ بیوی کے دعوے کے الفاظ اور اصل نوعیت کیوں اہم ہیں: عدالت سے نکاح کے خاتمے کو تسلیم کرنے یا نکاح ختم کرنے کی استدعا، لازماً حق مہر چھوڑنے کی پیشکش نہیں۔
Dr. Faryal Maqsood and another v. Khurram Shehzad Durrani and others, PLD 2025 SC 262
Dr. Faryal Maqsood and another v. Khurram Shehzad Durrani and others, PLD 2025 SC 262 کا فیصلہ 2025 کی قانونی رپورٹ میں شائع ہوا۔ اس مقدمے میں شوہر نے ثالثی کونسل کی مطلوبہ اجازت حاصل کیے بغیر دوسری شادی کی تھی۔
سپریم کورٹ نے 1939 کے ایکٹ کی دفعہ 2(iia) لاگو کرتے ہوئے قانون کی خلاف ورزی میں کی گئی دوسری شادی کو تنسیخ نکاح کی درست قانونی بنیاد قرار دیا۔ بیوی کو غیر مطلوبہ خلع کی ڈگری اور اس کے منفی مالی نتائج کا پابند نہیں رکھا گیا۔ عدالت نے ثابت شدہ قانونی سبب اور ظلم و ستم کے ایسے الزامات میں بھی فرق کیا جن کے لیے کافی شہادت موجود نہ تھی۔
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ عدالت کو درست قانونی بنیاد متعین کرنا چاہیے، نہ کہ یہ فرض کر لینا چاہیے کہ علیحدگی چاہنے والی ہر بیوی لازماً خلع ہی مانگ رہی ہے۔
متعلقہ قانونی اجازت ثالثی کونسل کی اجازت ہے
مسلم عائلی قوانین آرڈیننس، 1961 کی دفعہ 6(1) کے تحت موجودہ نکاح کے برقرار رہتے ہوئے دوسری شادی سے پہلے ثالثی کونسل کی پیشگی تحریری اجازت درکار ہے۔ موجودہ بیوی کی رضامندی اور کونسل کی اجازت ایک دوسرے کا متبادل نہیں: درخواست میں یہ بتانا ہوتا ہے کہ بیوی کی رضامندی حاصل کی گئی ہے یا نہیں، لیکن نجی رضامندی قانونی اجازت کی جگہ نہیں لے سکتی۔
دفعہ 6(5)(a) کے تحت ایسی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے پر موجودہ بیوی یا بیویوں کا تمام واجب الادا مہر، خواہ معجل ہو یا مؤجل، فوری طور پر قابلِ ادائیگی ہو جاتا ہے۔ یہ قانونی نتائج خلع کے سوال سے الگ ہیں۔
Dr. Seema Hanif Khan v. Waqas Khan and others, PLD 2026 SC 91
Dr. Seema Hanif Khan v. Waqas Khan and others, PLD 2026 SC 91، جو 2025 کا فیصلہ ہے اور 2026 کی قانونی رپورٹ میں شائع ہوا، میں سپریم کورٹ نے ماتحت عدالتوں کا مقدمے کو خلع سمجھ کر نمٹانے کا فیصلہ کالعدم کر دیا۔ شوہر کی دفعہ 6 کی خلاف ورزی میں کی گئی دوسری شادی تنسیخ نکاح کی ایک مستقل قانونی بنیاد تھی، اور بیوی کے حق مہر کو محفوظ رکھا گیا۔ اس فیصلے نے پھر واضح کیا کہ تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کرنا بذات خود خلع طلب کرنے کے مترادف نہیں۔
اس فیصلے میں شہادت سے متعلق ایک بار بار پیش آنے والے مسئلے پر بھی توجہ دی گئی۔ ظلم و ستم صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں؛ ذہنی یا جذباتی اذیت کے الزامات کو ازدواجی حالات کے تناظر میں پرکھنا ضروری ہے۔ عائلی مقدمات میں ثبوت کا معیار غالب امکان ہے، یعنی کسی واقعے کا درست ہونا اس کے غلط ہونے سے زیادہ قرینِ قیاس ہو؛ فوجداری مقدمات والا ہر معقول شک سے بالاتر ثبوت مطلوب نہیں۔ پولیس رپورٹ، طبی سرٹیفکیٹ یا آزاد عینی گواہ کا نہ ہونا، ظلم و ستم کے دعوے کو خودبخود ناکام نہیں بناتا۔
Mst. Naila Javed and another v. Nasir Khan and others, C.P.L.A. No. 3767 of 2025
Mst. Naila Javed and another v. Nasir Khan and others, C.P.L.A. No. 3767 of 2025، جس کا خلاصہ سندھ ہائی کورٹ کی جنوری 2026 کی نظائر کی اشاعت میں شامل ہے، میں بیوی نے ظلم و ستم اور عدم ادائیگی نان و نفقہ کی بنیاد پر دعویٰ کیا تھا۔ فیملی کورٹ نے اس کے برعکس شوہر کے ساتھ نہ رہنے کی خواہش کو خلع کے لیے کافی نفرت سمجھ کر اسے باقی حق مہر سے محروم کر دیا۔
سپریم کورٹ نے یہ طریقہ مسترد کیا۔ شوہر کے ساتھ مزید نہ رہنے کی خواہش، قانونی اسباب پر قائم دعوے سے رضاکارانہ دست برداری نہیں تھی۔ شوہر کا نان و نفقہ نہ دینا اور اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنا تسلیم شدہ اور قانونی طور پر متعلقہ حقائق تھے، جنہیں محض نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔
اپیل کی اجازت کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کر کے منظور کر لیا گیا۔ ظلم و ستم کی بنیاد پر نکاح تنسیخ کر دیا گیا، شوہر کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کو بھی تنسیخ نکاح کا ایک مستقل جواز قرار دیا گیا، اور بیوی کو باقی حق مہر کی مد میں 1,200,000 روپے، یعنی بارہ لاکھ روپے کا حق دار قرار دیا گیا۔
مئی 2026 کا فیصلہ: شعوری اور باخبر انتخاب
سپریم کورٹ کے ایک مزید فیصلے کے بارے میں ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے 21 مئی 2026 کو خبر دی۔ یہ Seelab Akhtar کی اپیل سے متعلق تھا۔ مقدمے میں وہ صورت زیرِ غور آئی جس میں بیوی ظلم و ستم کے الزامات ثابت نہ کر سکے، لیکن ازدواجی تعلق جاری رکھنے پر بھی آمادہ نہ ہو۔
خبر کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ خلع دینے سے پہلے فیملی کورٹ بیوی کا واضح، باخبر اور رضاکارانہ انتخاب معلوم کرے۔ عدالت نے اسے شعوری انتخاب کا اصول قرار دیا اور ضروری تعین کے لیے معاملہ واپس بھیج دیا۔
ظلم و ستم ثابت نہ ہونے سے عدالت کو خودبخود خلع اور اس کے مالی نتائج مسلط کرنے کا اختیار نہیں ملتا۔ رشتہ عملاً ختم ہو جانے سے بھی بیوی کے منتخب کردہ چارۂ کار کا تعین غیر ضروری نہیں ہو جاتا۔ عدالت کو معلوم کرنا چاہیے کہ وہ خلع اختیار کرتی ہے یا اپنے اصل دعوے پر قائم ہے، اور پھر قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔ یہ بیان خبر پر مبنی ہے، آزادانہ طور پر حاصل کردہ دستخط شدہ فیصلے پر نہیں۔
کیا خلع میں ہمیشہ پورا حق مہر واپس کرنا ہوتا ہے؟
یہ عمومی دعویٰ درست نہیں کہ خلع چاہنے والی خاتون کو ہر صورت اپنا تمام حق مہر واپس کرنا ہوگا۔ قابلِ اطلاق قانون اور مخصوص استحقاق کا جائزہ ضروری ہے۔
Mst. Rafia Yaqoob v. Suleman Ayub, 2026 SCMR 561، جس کا فیصلہ 23 جنوری 2026 کو ہوا، میں بیوی نے خود خلع طلب کی تھی۔ اس کا تسلیم شدہ مہر معجل پندرہ تولے سونا تھا اور ازدواجی تعلق قائم نہیں ہوا تھا۔ فیملی کورٹ نے پچیس فی صد کی واپسی کا حکم دیا تھا جسے پہلی اپیل میں برقرار رکھا گیا، لیکن ہائی کورٹ نے اس کی جگہ پورے مہر کی واپسی کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ نے پنجاب میں نافذ فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ 10(5) لاگو کرتے ہوئے پچیس فی صد کی واپسی کا حکم بحال کیا۔ اس دفعہ کے تحت خلع حاصل کرنے والی بیوی کو اپنے تسلیم شدہ مہر معجل کے زیادہ سے زیادہ پچیس فی صد یا مہر مؤجل کے زیادہ سے زیادہ پچاس فی صد سے دست بردار ہونے کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔ ازدواجی تعلق قائم نہ ہونا اس قانونی شق کو نظر انداز کرنے کا جواز نہیں تھا۔ بیوی اصل ذمہ داری قبول کر چکی تھی؛ عدالت کے سامنے تنازع اس ذمہ داری میں اضافے سے متعلق تھا۔
عدالت نے حق مہر کو دلہن کو دیے گئے تحائف سے بھی الگ قرار دیا اور شوہر کی جانب سے ایسے تحائف اپنی ملکیت کے طور پر واپس لینے کی کوشش مسترد کی۔ یہ فیصلہ شادی کے موقع پر دی گئی ہر چیز کو قابلِ واپسی عوضِ خلع قرار دینے کی سند نہیں۔ اسی طرح پنجاب کے قانون کے تحت لاگو شرح کو سندھ سمیت دیگر صوبوں پر خودبخود لاگو نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہر مقدمے میں متعلقہ صوبائی قانون اور واجب الاتباع نظائر کا جائزہ ضروری ہے۔
ظلم و ستم کا حقیقت پسندانہ جائزہ ضروری ہے، مگر ثبوت بھی لازم ہے
یہ تسلیم کرنا کہ ازدواجی بدسلوکی اکثر نجی ماحول میں ہوتی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر الزام بغیر جانچ کے قبول کر لیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ عدالت مناسب دیوانی معیار کے مطابق شہادت کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے، جیسا کہ Dr. Seema Hanif Khan v. Waqas Khan and others, PLD 2026 SC 91 میں واضح کیا گیا۔
سپریم کورٹ کا طرزِ عمل بیوی کے بیان، متعلقہ حالات اور مبینہ رویے کے مجموعی اثرات پر توجہ دینے کا تقاضا کرتا ہے۔ مسلسل تذلیل، جبر یا جذباتی اذیت کوئی ظاہری چوٹ نہ ہونے کے باوجود قانونی طور پر اہم ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف ظلم و ستم کا نتیجہ ریکارڈ کے مدلل جائزے پر مبنی ہونا چاہیے؛ ہر ناکام شادی کو قانونی بدعملی کا ثبوت فرض نہیں کیا جا سکتا۔
اس کی عملی اہمیت نمایاں ہے: ثبوت کا غیر حقیقت پسندانہ طور پر سخت معیار خاتون کو محض اس لیے خلع کی طرف دھکیل سکتا ہے کہ نجی بدسلوکی کو دستاویزی شکل دینا مشکل ہوتا ہے۔ حل شہادت کا درست جائزہ ہے، قانونی اسباب پر تنسیخ نکاح اور خلع کے درمیان فرق مٹا دینا نہیں۔
دعوے کی تیاری اور فیملی کورٹ کی کارروائی کے لیے اس کا مطلب
عملی نقطۂ آغاز یہ متعین کرنا ہے کہ بیوی حقیقتاً کون سی داد رسی چاہتی ہے۔ اس بیان کو کہ وہ ازدواجی زندگی بحال نہیں کر سکتی، سرسری طور پر حق مہر چھوڑنے کی رضامندی نہیں سمجھنا چاہیے۔ خلع کو متبادل کے طور پر پیش کیا جائے تو ہدایات میں نکاح ختم کرنے کی خواہش اور اس مخصوص چارۂ کار اور اس کے مالی نتائج کو قبول کرنے کی آمادگی کو الگ رکھا جائے۔ یہ Ibrahim Khan v. Mst. Saima Khan and others, PLD 2024 SC 645 سمیت سپریم کورٹ کے فیصلوں میں بیوی کے انتخاب کا احترام کرنے کے اصول کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ اس کی جگہ عدالتی قیاس قائم کرنے کی۔
قانونی اسباب پر تنسیخ نکاح کے دعوے میں ان اسباب کی تائید کرنے والے ضروری حقائق، دستیاب گواہ اور دستاویزات، اور مالی مطالبات واضح ہونے چاہییں۔ فیملی کورٹس ایکٹ، 1964 کی دفعہ 7 عرضی دعویٰ میں ضروری حقائق اور متعلقہ شہادت پیش کرنے کا تقاضا کرتی ہے؛ نیز تنسیخ نکاح کے دعوے کے ساتھ حق مہر، نان و نفقہ، جہیز، بیوی کے ذاتی سامان، بچوں کی تحویل اور ملاقات کے متعلق مطالبات بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔ ان امور کو نکاح ختم کرنے کی ایک عمومی استدعا میں ضم کرنے کے بجائے الگ الگ واضح کیا جانا چاہیے۔
مسودہ تیار کرتے وقت واضح ہدایات خاص طور پر ضروری ہیں جہاں عرضی دعویٰ میں متبادل طور پر خلع کی استدعا ہو۔ کسی سابقہ مسودے سے نقل کردہ معمول کی شق مؤکلہ کے حقیقی مؤقف کی درست عکاسی کرنے میں ناکام رہ سکتی ہے۔ وکیل کو معلوم کرنا چاہیے کہ وہ قانونی اسباب پر فیصلہ چاہتی ہے، خلع اختیار کرتی ہے یا احتیاط سے متعین کردہ متبادل محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔ حالیہ فیصلوں کے مطابق یہ ایک بنیادی قانونی سوال ہے، محض مسودہ نویسی کی رسمی کارروائی نہیں۔
نتیجہ
سپریم کورٹ کی حالیہ نظائر دو باہم متعلقہ حقوق کا تحفظ کرتی ہیں: خاتون کا اپنے نکاح کے خاتمے کی داد رسی طلب کرنا اور اس خاتمے کی قانونی بنیاد کا خود انتخاب کرنا۔ عدالتی خلع ایک اہم چارۂ کار ہے، لیکن اسے قانونی اسباب پر قائم دعویٰ نظر انداز کرکے، باخبر انتخاب کے بغیر، بیوی کو حق مہر سے محروم کرنے کا مختصر راستہ نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت کو پیش کردہ اسباب پر فیصلہ کرنا، ثبوت کا درست معیار لاگو کرنا اور نکاح کی تنسیخ کو متعلقہ مالی مطالبات کے تعین سے الگ رکھنا چاہیے۔
نکاح کا خاتمہ چاہنا، اس سے پیدا ہونے والے حقوق چھوڑنے پر رضامند ہونا نہیں ہے۔
کراچی اور پاکستان بھر میں عائلی قانون سے متعلق مشاورت
لیگم لاء فرم کی عائلی قانون کی خدمات میں خلع، تنسیخ نکاح، حق مہر، نان و نفقہ اور متعلقہ عائلی تنازعات میں مشاورت اور نمائندگی شامل ہیں۔ موزوں دعوے اور قابلِ اطلاق صوبائی قانون کے بارے میں رہنمائی کے لیے کراچی میں ہمارے وکلاء سے رابطہ کریں؛ ہم ضرورت کے مطابق مقامی معاون وکلاء کے ذریعے پاکستان بھر میں مؤکلین کی معاونت کرتے ہیں۔
تحقیقی اور دائرۂ کار کا نوٹ: یہ مضمون پاکستان میں مسلمانوں کے عائلی قانون سے متعلق عمومی معلومات فراہم کرتا ہے، کسی انفرادی مقدمے کے لیے قانونی مشورہ نہیں۔ صوبائی قانون اور مخصوص حقائق اہم ہیں۔ مئی 2026 کے فیصلے کا بیان اے پی پی کی 21 مئی 2026 کی خبر پر مبنی ہے؛ دستخط شدہ فیصلہ اور مستند قانونی رپورٹ کا حوالہ آزادانہ طور پر حاصل نہیں ہو سکا، اس لیے کوئی غیر مصدقہ حوالہ درج نہیں کیا گیا۔ قانونی رپورٹ کی اشاعت کا سال اور فیصلے کی تاریخ الگ ہو سکتے ہیں۔



